اسلام آباد ہائی کورٹ ہمارے لیے ایک بند دروازہ ہے، سلمان اکرم راجا
اسلام آباد ہائی کورٹ کی صورتحال
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ ہمارے لیے ایک بند دروازہ ہے، یہاں ہم درخواستیں دائر کرسکتے ہیں لیکن سنوائی نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں: شادی کی تقریب میں 2 گروپوں میں فائرنگ، 3 افراد جاں بحق
ملاقات کی کوششیں
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ بانی تک معالجین اور فیملی کی رسائی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ عدالت نے ہفتہ وار ایک وکیل اور دوسری فیملی سے ملاقات کرانے کا حکم دیا۔ وزیراعلیٰ کے ہمراہ پیش ہونے پر جیل سپرنٹنڈنٹ سے ملاقات کرانے کی درخواست کی گئی، ہم اُسی روز اڈیالہ جیل گئے مگر ہماری ملاقات نہیں کرائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: گہری کھائیاں راستہ روکے کھڑی تھیں، عجیب لائن تھی جو محبوب کی زلفوں کی طرح اٹھکیلیاں کرتی کبھی اس طرف کبھی دوسری طرف بھاگی پھرتی۔
توہین عدالت کی درخواستیں
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہم نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی لیکن وہ آج تک نہیں لگائی جا سکی۔ پرانی توہین عدالت کی درخواستیں لگائی گئیں اور انہیں یک جنبش قلم نمٹا دیا گیا۔ ہائی کورٹ نے اپنے ہی آرڈر کی حکم عدولی پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔ ہائیکورٹ کی جانب سے ایکشن نہ لینے پر ہم سپریم کورٹ چلے گئے، طبی معائنے کے لیے بھی درخواستیں دائر کیں لیکن سماعت نہیں ہوسکی۔
یہ بھی پڑھیں: تعلیمی اداروں میں خواتین ہراسگی معاملہ، وکیل وفاقی حکومت نے ڈی جی ایف آئی اے کی تفتیشی رپورٹ پیش کردی
ٹویٹر کیس کے حوالے سے
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ٹوئٹر کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی کے خلاف ایک کیس مقرر ہے۔ میں نے کہا کہ ملاقات کے بغیر بانی کا جواب کیسے داخل کرایا جا سکتا ہے؟ اس مقدمے میں بھی عدالت نے بانی سے ملاقات کی ہدایات جاری کیں، میری ملاقات نہیں ہوئی مگر عدالت نے کیس میں بھی کارروائی آگے بڑھا دی۔ عدالت کہہ رہی ہے کہ ملاقات کے بغیر ہی جواب داخل کرائیں اور بحث بھی کریں۔
وزیراعلیٰ کی کوششیں
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے فیصلہ کیا کہ عوام کے نمائندے کی حیثیت سے عدالت میں کھڑے ہو کر معاملہ پوچھیں گے۔ کیسز ختم ہونے پر وزیراعلیٰ نے بات کرنے کی کوشش کی لیکن چیف جسٹس اٹھ کر چلے گئے۔ یہاں سے سپریم کورٹ بھی جایا جائے گا، بانی کا مقدمہ قوم اور عوام کو لڑنا پڑے گا۔








