میں روسٹرم پر گیا، چیف جسٹس اسلام آبادہائی کورٹ کو سلام کیا مگر انہوں نے جواب نہیں دیا; سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ کے پی کی اوپن کورٹ میں چیف جسٹس سے ملاقات
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملاقات نہیں ہوتی تھی، اس لیے اوپن کورٹ میں جانے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت آصف علی زرداری سے پاکستان کے اردن کے لیے نامزد سفیر خرم سرفراز خان کی ملاقات
روستروم پر کوشش
سہیل آفریدی نے اوپن کورٹ میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے بات کرنے کی کوشش کی، جہاں وہ روسٹرم پر گئے اور چیف جسٹس کو سلام کیا، مگر انہوں نے جواب نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کا ساتھ دینے پر آئی سی سی نے پاکستان کو تنہائی کی دھمکی دیدی، بھارتی میڈیا کا دعویٰ
احتجاجی سیاست کا پیغام
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق، سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف احتجاجی یا انتشاری سیاست نہیں کرتی۔ ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ تمام آپشنز استعمال کرنے کے بعد ہم پُرامن احتجاج کرتے ہیں، جو ہمارا حق ہے۔
سلام کا جواب نہ ملنا
انہوں نے مزید کہا کہ سوا گھنٹہ انتظار کے باوجود چیف منسٹر کو سلام کا جواب تک نہیں دیا گیا۔ انہوں نے شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹروں سے طبی معائنے کی درخواست بھی جمع کرائی، لیکن وہ بھی نہیں لگی۔








