مودی کا دورہ اسرائیل، مجموعی طور پر 8.6 بلین ڈالر کے دفاعی معاہدے متوقع
بھارتی وزیراعظم کا دورہ اسرائیل
تل ابیب، نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کا دورہ اسرائیل شیڈول ہے اور ایسے میں برطانوی نشریاتی ادارے نے فوربز انڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ انڈیا اسرائیل کے ساتھ مجموعی طور پر 8.6 بلین ڈالر کے دفاعی معاہدے کرنے جا رہا ہے۔ ان معاہدوں کے تحت سپائس 1000 پرسیژن گائیڈڈ بم، ہوا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل، بیلسٹک میزائل اور آئس بریکر میزائل سسٹم خریدے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ستمبر 1966ء میں یوتھ موومنٹ کے سہ ماہی اجلاس میں غور کیا گیا کہ ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ کسی سماجی برائی کے خلاف تحریک برپا کر سکیں
تنازعات میں گھرا ہوا دورہ
بی بی سی کے مطابق اگرچہ اسرائیل میں انڈیا کے سفیر جے پی سنگھ نے وزیرِاعظم نریندرا مودی کے دورۂ اسرائیل کو تاریخی قرار دیا ہے، مگر ان کا یہ دورہ تنازعات میں گھرا ہوا ہے۔ اسرائیل کی اپوزیشن بدھ کو پارلیمنٹ میں انڈین وزیر اعظم نریندرا مودی کی تقریر کا بائیکاٹ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے، کیونکہ مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب بھی کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں ہفتے کو عام تعطیل کا اعلان
دفاعی معاہدوں کی تفصیلات
دفاعی ماہر سنجیو سریواستو کا کہنا ہے کہ مودی کے دورے کے دوران اسرائیل کے ساتھ جن اہم دفاعی معاہدوں پر دستخط کیے جا سکتے ہیں، ان میں جدید ڈرونز کی خریداری بھی شامل ہو گی۔ ان معاہدوں کے تحت انڈیا اس بات پر زور دے سکتا ہے کہ اسرائیلی ڈرون انڈیا میں تیار ہوں۔ دی ہندو اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا اسرائیل سے ہیرون ایم کے 2 ڈرونز کی اضافی مقدار خریدنے کا منصوبہ بھی بنا رہا ہے۔
ہیرون ڈرونز کی خصوصیات
ایئرفورس ٹیکنالوجی ڈاٹ کام کے مطابق یہ ڈرون ایک وقت میں 45 گھنٹے تک مسلسل ہوا میں پرواز کر سکتا ہے۔ یہ ڈرون تقریباً 470 کلو گرام کا پے لوڈ لے جا سکتا ہے اور تقریباً 35,000 فٹ کی بلندی تک اڑنے کے علاوہ ہر قسم کے موسم میں اڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، اب تک انڈیا کی حکومت کی جانب سے ان معاہدوں کے حوالے سے کوئی باضابطہ معلومات شیئر نہیں کی گئی ہیں۔








