سوشل میڈیا، عوام اور ہمیں معلوم ہے پارٹی میں غدار کون ہے: علیمہ خان
علیمہ خان کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا اور عوام کو معلوم ہے کہ پارٹی میں غدار کون ہیں اور ہمیں بھی مکمل معلومات حاصل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیرہ اسماعیل خان میں مبینہ پولیس مقابلہ، ایک زخمی ڈاکو گرفتار، 2 فرار
میڈیا کے سامنے گفتگو
روزنامہ جنگ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے بھائی کا مسئلہ ہے، بانی پی ٹی آئی ہی سیاست میں سرگرم ہیں، اب ہم اپنے بھائی کے لیے کھل کر بات کریں گے اور محسن نقوی جو مرضی کریں، اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں جو اسرائیل کر رہا ہے اب وہ عمل بھارت اپنا رہا ہے: شیری رحمان
پارٹی میں خاموشی کا ذکر
علیمہ خان نے کہا کہ پارٹی رہنما جو مرضی کہیں، ہم اب اپنے بھائی کے لیے بولیں گے، ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ پارٹی میں کیا ہو رہا ہے اور قیادت مکمل طور پر خاموش ہے، پارٹی کے وکلاء اور ممبرانِ اسمبلی خود کہتے ہیں کہ ووٹ بانی کا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے ملک بھر میں کم بجلی سے چلنے والے پنکھوں کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا
نظریاتی جماعت کی بات
ان کا کہنا ہے کہ بانی نے ہمیشہ کہا تھا کہ یہ ایک نظریاتی جماعت ہے، اس لیے محسن نقوی کے خلاف بیان سے پارٹی کا تقسیم ہونا سمجھ سے بالاتر ہے، چند افراد اگر بیان دیں تو اس سے پارٹی کو نقصان نہیں پہنچتا۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز سے ایتھوپیا کے سفیر کی ملاقات، تعلقات مضبوط بنانے پر زور
کیسز کا نہ لگوانا
بانیٔ پی ٹی آئی کی ہمشیرہ نے کہا کہ بانی نے وکلاء کو کئی بار کہا کہ کیسز لگائیں، لیکن چیئرمین، وکلاء اور ایم این اے کیسز تک نہیں لگوا سکے اور نہ نظر آتے ہیں، بیرسٹر گوہر پارٹی چیئرمین بن گئے، مگر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں کیسز تک نہیں لگوا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: جعلی پولیس مقابلہ، عدالت کا CCD پولیس ملازمین پر دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم
بیرسٹر گوہر سے سوالات
علیمہ خان نے بیرسٹر گوہر، لطیف کھوسہ اور بیرسٹر علی ظفر سے سوال کیا کہ وہ کہاں ہیں اور کیسز کیوں نہیں لگوا رہے؟
یہ بھی پڑھیں: مدینہ پہنچے، 3 گھنٹے تک ایئرپورٹ کے لاؤنج نما کمرے میں بسوں کے انتظار میں بیٹھے رہے، سامان کی تلاش میں رات بھر مارے مارے پھرتے رہے۔
محسن نقوی کے بیان کا رد عمل
علیمہ خان نے کہا کہ محسن نقوی کے بیان کا جواب نہیں دیا گیا اور وہ ہمیں قصور وار قرار دے رہے ہیں، سرکاری ڈاکٹرز پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے جبکہ ہمارے ڈاکٹرز موجود ہونے چاہئیں۔
یہ بھی پڑھیں: سی ٹی ڈی کے ایک ماہ کے دوران بڑے آپریشن، را ایجنٹ سمیت 49 دہشت گرد گرفتار
پارٹی کی کارروائیاں
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اب پارٹی اس معاملے میں کچھ کرے، اس دن محسن نقوی سے معلوم ہوا کہ بیرسٹر گوہر جیل جا رہے ہیں، ہمیں محسن نقوی سے اپنے اہلِخانہ کی معلومات ملیں گی یا اپنی پارٹی سے؟
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کے ٹیکس فری بجٹ کے اہم نکات
مشاورتی کمیٹی کی وضاحت
علیمہ خان نے مشاورتی کمیٹی کے حوالے سے کہا کہ میری رائے اور مرضی کے بغیر کوئی کمیٹی منظور نہیں اور نہ ہو سکتی ہے، بانی کی صحت سے متعلق کسی بھی کارروائی یا فیصلے کے لیے میری مشاورت ضروری ہے۔
معلومات کی فراہمی میں کمی
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے رہنما اکیلے فیصلے کر رہے ہیں اور اہلِ خانہ کو معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں، بیرسٹر گوہر پہلے ملاقات کرتے تھے اور بعد میں ہمیں اطلاع دیتے تھے، جبکہ حامد خان سینیٹر بننے کے بعد نظر ہی نہیں آئے۔








