سوشل میڈیا، عوام اور ہمیں معلوم ہے پارٹی میں غدار کون ہے: علیمہ خان
علیمہ خان کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا اور عوام کو معلوم ہے کہ پارٹی میں غدار کون ہیں اور ہمیں بھی مکمل معلومات حاصل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (پیر) کا دن کیسا رہے گا ؟
میڈیا کے سامنے گفتگو
روزنامہ جنگ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے بھائی کا مسئلہ ہے، بانی پی ٹی آئی ہی سیاست میں سرگرم ہیں، اب ہم اپنے بھائی کے لیے کھل کر بات کریں گے اور محسن نقوی جو مرضی کریں، اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
یہ بھی پڑھیں: قلات میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، بھارتی حمایت یافتہ 4 دہشتگرد ہلاک
پارٹی میں خاموشی کا ذکر
علیمہ خان نے کہا کہ پارٹی رہنما جو مرضی کہیں، ہم اب اپنے بھائی کے لیے بولیں گے، ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ پارٹی میں کیا ہو رہا ہے اور قیادت مکمل طور پر خاموش ہے، پارٹی کے وکلاء اور ممبرانِ اسمبلی خود کہتے ہیں کہ ووٹ بانی کا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک فساد کبھی طلباء کو اشتعال دلاتی ہے، کبھی وکلاء سے باہر نکلنے کی اپیلیں کرتی ہے: عظمیٰ بخاری
نظریاتی جماعت کی بات
ان کا کہنا ہے کہ بانی نے ہمیشہ کہا تھا کہ یہ ایک نظریاتی جماعت ہے، اس لیے محسن نقوی کے خلاف بیان سے پارٹی کا تقسیم ہونا سمجھ سے بالاتر ہے، چند افراد اگر بیان دیں تو اس سے پارٹی کو نقصان نہیں پہنچتا۔
یہ بھی پڑھیں: قطری وزیراعظم کی آج امریکی صدر ٹرمپ سے اہم ملاقات، اسرائیلی حملے اور غزہ سیز فائر پر بات چیت ہوگی
کیسز کا نہ لگوانا
بانیٔ پی ٹی آئی کی ہمشیرہ نے کہا کہ بانی نے وکلاء کو کئی بار کہا کہ کیسز لگائیں، لیکن چیئرمین، وکلاء اور ایم این اے کیسز تک نہیں لگوا سکے اور نہ نظر آتے ہیں، بیرسٹر گوہر پارٹی چیئرمین بن گئے، مگر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں کیسز تک نہیں لگوا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں بارش، آسمانی بجلی اور دیواریں گرنے کے واقعات میں 16 افراد جاں بحق اور 40 سے زائد زخمی
بیرسٹر گوہر سے سوالات
علیمہ خان نے بیرسٹر گوہر، لطیف کھوسہ اور بیرسٹر علی ظفر سے سوال کیا کہ وہ کہاں ہیں اور کیسز کیوں نہیں لگوا رہے؟
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز بھی اضافہ
محسن نقوی کے بیان کا رد عمل
علیمہ خان نے کہا کہ محسن نقوی کے بیان کا جواب نہیں دیا گیا اور وہ ہمیں قصور وار قرار دے رہے ہیں، سرکاری ڈاکٹرز پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے جبکہ ہمارے ڈاکٹرز موجود ہونے چاہئیں۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی کی کڑی نگرانی، سختیاں کس کے کہنے پر مزید بڑھا دی گئی ہیں؟ بیرسٹر سیف نے نام بتا دیا
پارٹی کی کارروائیاں
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اب پارٹی اس معاملے میں کچھ کرے، اس دن محسن نقوی سے معلوم ہوا کہ بیرسٹر گوہر جیل جا رہے ہیں، ہمیں محسن نقوی سے اپنے اہلِخانہ کی معلومات ملیں گی یا اپنی پارٹی سے؟
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کو سیاحتی ہب بنارہے ہیں ، انویسٹرز کو ویلکم کریں گے: وزیر اعلیٰ مریم نواز کی سپین کی سینیٹ کے وفد سے ملاقات میں گفتگو
مشاورتی کمیٹی کی وضاحت
علیمہ خان نے مشاورتی کمیٹی کے حوالے سے کہا کہ میری رائے اور مرضی کے بغیر کوئی کمیٹی منظور نہیں اور نہ ہو سکتی ہے، بانی کی صحت سے متعلق کسی بھی کارروائی یا فیصلے کے لیے میری مشاورت ضروری ہے۔
معلومات کی فراہمی میں کمی
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے رہنما اکیلے فیصلے کر رہے ہیں اور اہلِ خانہ کو معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں، بیرسٹر گوہر پہلے ملاقات کرتے تھے اور بعد میں ہمیں اطلاع دیتے تھے، جبکہ حامد خان سینیٹر بننے کے بعد نظر ہی نہیں آئے۔








