پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس، رائس مل سے ایک کروڑ 90 لاکھ روپے کے چاول بغیر پیمنٹ اٹھائے جانے کا انکشاف
اسلام آباد میں چاول کی غیر قانونی ترسیل کا انکشاف
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں ایک رائس مل سے ایک کروڑ 90 لاکھ روپے کے چاول بغیر پیمنٹ اٹھائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں مشہور خطاط عبدالرشید قمر کے بیٹے کے ریسٹورنٹ ’’البیک بروسٹ‘‘ پر مسلح ڈکیتی
اجلاس کا پس منظر
معین عامر پیرزادہ کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں فنانس ڈویژن سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ دورانِ اجلاس ایک رائس مل سے ایک کروڑ 90 لاکھ روپے کے چاول غیر قانونی طور پر اٹھانے کا معاملہ سامنے آیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا بیرون ملک جانے والے افراد کو آف لوڈ کرنے کے معاملے کا نوٹس، چودھری سالک کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دیدی
آڈٹ اعراض اور انتظامی ردعمل
آڈٹ اعراض میں بتایا گیا کہ بینک کے قرض دار نے ایک کروڑ 90 لاکھ کا چاول بغیر پیمنٹ کے اٹھایا۔ رکن کمیٹی سید نوید قمر نے کہا کہ یہ بہت ہی خطرناک معاملہ ہے جس پر سیکرٹری فنانس نے بتایا کہ ایک کروڑ 40 لاکھ روپے واپس کر دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ایئر پورٹ سے دبئی جانے والے مسافر کے قبضے سے اڑھائی کلو گرام آئس ہیروئن برآمد
چیئرمین کا سخت موقف
چیئرمین کمیٹی معین عامر پیرزادہ نے کہا کہ نظر آرہا ہے کہ بینک نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ آپ نے کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ پوری رات چاول لے جاتے رہے ہیں لیکن آپ نے کچھ نہیں کیا۔ کمپنی کے خلاف آپ نے کیوں کارروائی نہیں کی؟ پوری رات اسٹاک لوڈ ہوتا رہا اور پولیس صبح آئی۔
مشکوک صورتحال اور کارروائی کا مطالبہ
سید نوید قمر نے کہا کہ مجھے تو یہ پورا معاملہ ہی مشکوک لگ رہا ہے۔ بینک کے صدر نے بتایا کہ کمپنی کو معطل کردیا گیا ہے، جس پر چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ 15 دن میں کمپنی کے خلاف کارروائی سے آگاہ کریں۔








