اسیر پی ٹی آئی رہنماؤں کی چیف جسٹس سے نوٹس لینے کی اپیل
پی ٹی آئی رہنماؤں کی چیف جسٹس سے اپیل
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) کوٹ لکھپت جیل میں قید پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں نے بانی پی ٹی آئی کو اپنی ذاتی ڈاکٹر سے ملاقات کی اجازت نہ دینے اور اہلِ خانہ کو اطلاعات فراہم نہ کرنے کے معاملے پر چیف جسٹس سے نوٹس لینے کی درخواست کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فرانسیسی صدر کا فلسطین کو شرائط کے ساتھ تسلیم کرنے کا اشارہ
قید رہنماؤں کا بیان
روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق، اسیر رہنماؤں میں شامل شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ، اور محمود الرشید نے اپنے وکیل کے ذریعے ایک رسمی بیان ریکارڈ کروایا۔
یہ بھی پڑھیں: شام میں اپوزیشن فورسز کی پیش قدمی، ایران بھی میدان میں، منصوبہ سامنے آگیا
نواز شریف کا معاملہ
بیان میں ذکر کیا گیا ہے کہ 2019ء میں نواز شریف کو پلیٹ لیٹس کم ہونے کے سبب سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان میڈیکل بورڈ کے تمام اجلاسوں میں شامل رہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہاکی ٹیم کے ساتھ حالیہ ناروا سلوک سے متعلق قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع
معلومات کی عدم دستیابی
اسیر پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے اہلِ خانہ اور ان کے قانونی مشیر کو مکمل رسائی حاصل تھی، جبکہ بانی پی ٹی آئی کے علاج کے سلسلے میں انہیں ہر سطح پر رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
حقوق کی پامالی
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے علاج کے حقوق کی پامالی کی گئی ہے، اور اہلِ خانہ کو رسائی فراہم نہیں کی گئی۔ ان کے وکیل اور ذاتی ڈاکٹر سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔








