افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشتگردی کی سرکوبی نہیں چھپی: طارق فضل چودھری
طارق فضل چودھری کی بیان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف جاری دہشت گردی اب ڈھکی چھپی نہیں رہی، ریاستِ پاکستان کو ایک منظم سازش کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا ؟
دہشت گردی اور اس کے اثرات
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر انہوں نے لکھا کہ رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں معصوم جانوں کا خون بہانا اس بات کی دلیل ہے کہ ان دہشت گردوں کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی پختون روایات سے، یہ عناصر اپنے خودساختہ نظریات کی تکمیل کیلئے انسانیت کی ہر حد پار کرنے کو تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں موسلا دھار بارش، دریاؤں اور ندی نالوں میں سیلاب کا خدشہ، الرٹ جاری
پاکستان کی خودمختاری کی حفاظت
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے بارہا مطالبہ کیا گیا کہ افغان سر زمین کو فتنہ الخوارج اور دیگر دہشت گرد گروہوں کیلئے استعمال نہ ہونے دیا جائے، مگر اس کے برعکس پاکستان کے خلاف کھلی جارحیت اور دراندازی ہماری خودمختاری کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کی وزارت اعلیٰ ڈانوا ڈول ہے ، رہائی فورس نوکری پکی کرنے کے لئے شعبدہ بازی ہے،خواجہ آصف
قومی یکجہتی اور عزم
ان کا کہنا تھا کہ ریاستِ پاکستان واضح کرنا چاہتی ہے کہ قومی سلامتی، وقار اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر سیاسی وابستگی اور مفاد سے بالاتر ہے، اس جنگ کا جواب مکمل قومی اتحاد، عوامی حمایت اور فولادی عزم سے دیا جائے گا۔ ہماری سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قوم کی مکمل تائید کے ساتھ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے پرعزم ہیں۔
سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر
طارق فضل چودھری نے مزید کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دشمن کے مذموم عزائم کا مقابلہ کریں، پاکستان کے خلاف ہونے والی اس دہشت گردی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، پاکستان کے امن، خودمختاری اور سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ قوم متحد ہے، افواج مستعد ہیں، ہر قربانی کا حساب لیا جائے گا۔








