شاداب خان ممکنہ طور پر پاکستان کے اگلے ٹی 20 کپتان ہوں گے: شعیب ملک کا دعویٰ
شعیب ملک کا شاداب خان کے کپتان بننے کا امکان
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کے سابق کپتان شعیب ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی مایوس کن کارکردگی کے بعد کپتانی کے معاملے پر غور شروع ہو گیا ہے اور آل راؤنڈر شاداب خان کو سلمان علی آغا کی جگہ ممکنہ کپتان بنایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے جوہری پروگرام بحال کیا تو امریکا کارروائی کرے گا: ٹرمپ کا انتباہ
شاداب خان کی قیادت کا مطالبہ
روزنامہ جنگ کے مطابق شعیب ملک نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ شاداب خان کا نام اب ٹی 20 ٹیم کی قیادت کے لیے سامنے آنا شروع ہو گیا ہے، ہم چاہتے تھے کہ انہیں پہلے کپتان بنایا جائے، لیکن وہ اس وقت زخمی تھے۔
یہ بھی پڑھیں: تمام موٹرسائیکل سوار سبسڈی کے مستحق نہیں، مشیر وزیرِ خزانہ
آغا کی قیادت پر سوالات
انہوں نے کہا کہ آغا کی کمزور قیادت اور ورلڈ کپ میں محدود کارکردگی نے ان کی کپتانی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اسی پروگرام میں سابق ٹیسٹ کرکٹر باسط علی نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں کئی کپتان دیکھے ہیں، بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی اور شاداب خان سب نے قیادت کی ہے اور اب سلمان علی آغا کپتان ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اگلا پڑاؤ اسوان ڈیم تھا جس پر مصری بہت فخر کرتے ہیں اور ہر ایک کے سامنے اس کا تذکرہ کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں، یہ ڈیم جون 1970ء میں مکمل ہوا
باسط علی کی تنبیہ
تاہم باسط علی نے خبردار کیا کہ شاداب مناسب انتخاب نہ بھی ہو اور یاد دلایا کہ افغانستان کے خلاف کپتانی کے دوران پاکستان نے ایک کمزور ٹیم سے شکست کھائی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بشنوئی گینگ کے رکن سمیت 2 مطلوب بھارتی گینگسٹر گرفتار، کہاں سے کیسے اور کن جرائم میں پکڑا گیا؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں
کامران اکمل کا سوال
دوسری جانب سابق وکٹ کیپر بیٹر کامران اکمل نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا آغا کپتانی کے لیے تیار تھے یا نہیں؟
انہوں نے کہا کہ ایشیاء کپ اور ورلڈ کپ میں کپتان کے طور پر ان کا سب سے بڑا سکور 12 میچوں میں 32 رنز رہا، پی سی بی کو ایسے کپتان کا انتخاب کرنا چاہیے جو فرنٹ سے قیادت کرے اور خود اچھی کارکردگی دکھائے، کیونکہ جب کپتان کارکردگی دکھاتا ہے تو ٹیم بھی بہتر کھیلتی ہے۔
شاداب خان کی موجودہ کارکردگی
واضح رہے کہ شاداب خان کی موجودہ ورلڈ کپ میں کارکردگی بھی بہترین نہیں رہی، 4 میچوں میں انہوں نے صرف 5 وکٹیں حاصل کی ہیں اور 93 رنز دیے ہیں، جس سے قیادت کے لیے ان کے موزوں ہونے پر مزید سوالات اٹھ رہے ہیں۔








