عدالتی انفراسٹرکچر میں موجود خلا جلد از جلد پرُ کیا جائے: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی
عدالتی انفراسٹرکچر میں اصلاحات کا جائزہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف جسٹس پاکستان کی زیر صدارت ملک بھر کے عدالتی انفراسٹرکچر میں اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں عدالتوں اور بار رومز کی سولرائزیشن سمیت جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات 22 دسمبر 2025 سے 10 جنوری 2026 تک ہونے کا اعلان
پنجاب کی ترقیاتی کام
اجلاس میں جوڈیشل ڈیولپمنٹ فنڈ، انڈر ڈیولپڈ ریجنز ونڈوز اور گرانٹ اِن ایڈ کے تحت جاری منصوبوں پر جامع رپورٹ پیش کی گئی۔ اعلامیے کے مطابق پنجاب میں 56 بار رومز کی سولرائزیشن مکمل کرلی گئی ہے جبکہ مزید 47 بار رومز پر کام جاری ہے۔ صوبے میں 62 بار رومز اور عدالتوں میں ای لائبریریز قائم کی جاچکی ہیں اور ان کی توسیع کا عمل بھی جاری ہے۔ پنجاب کے 47 جوڈیشل کمپلیکسز میں واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب کیے گئے ہیں جبکہ 32 ڈے کیئر سینٹرز اور 74 خواتین سہولت مراکز بھی قائم کیے جاچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرِ اعظم نے بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کرنے کیلئے دنیا بھر میں سفارتی وفد بھیجنے کا فیصلہ کر لیا
سندھ میں جاری منصوبے
اعلامیے کے مطابق سندھ میں 65 بار رومز اور 92 عدالتوں کی سولرائزیشن جاری ہے جبکہ 37 بار رومز اور 61 عدالتوں میں ای لائبریریز کے قیام پر کام ہورہا ہے۔ سندھ کے 28 اضلاع اور 19 تعلقہ سطح پر خواتین سہولت مراکز کی ترقی کا عمل بھی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غیر ملکی طاقتیں جنگ کے امکان سے کسی حد تک لاتعلق دکھائی دیتی ہیں، انٹرنیشنل کرائسز گروپ کا بیان
خیبر پختونخوا کی پیشرفت
خیبر پختونخوا میں 51 بار رومز اور 39 عدالتوں کی سولرائزیشن مکمل کرلی گئی ہے جبکہ 66 بار رومز اور 62 عدالتوں میں ای لائبریریز قائم کردی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت طاقت دکھانے کی کوشش میں کمزوری ظاہر کر بیٹھا، الجزیرہ کا تجزیہ پڑھ کر آپ کو اپنی مسلح افواج پر فخر ہوگا
بلوچستان میں سولرائزیشن
بلوچستان کے تمام 35 سیشن ڈویژنز میں سولرائزیشن کا عمل شروع کردیا گیا ہے جبکہ 35 سیشن ڈویژنز میں بینچ اور بار کے لیے ای لائبریریز بھی قائم کردی گئی ہیں۔
چیف جسٹس کی ہدایت
چیف جسٹس پاکستان نے ہدایت کی کہ عدالتی انفراسٹرکچر میں باقی ماندہ خلا کی نشاندہی کرکے انہیں جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ عدالتی کارکردگی اور ادارہ جاتی وقار کے لیے بلا تعطل اور پائیدار توانائی کی فراہمی ناگزیر ہے۔








