سندھ ہائی کورٹ نے اساتذہ کی تنخواہ اور پنشن سے کٹوتی روکنے کا حکم جاری کر دیا
سندھ ہائیکورٹ میں سماعت
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ ہائیکورٹ میں آئینی بینچ نے اساتذہ کے ٹائم اسکیل ختم کرنے اور اضافی مراعات واپس لینے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے تنخواہ اور پنشن سے کٹوتی روکنے کا حکم صادر کرتے ہوئے محکمہ خزانہ و دیگر کو مزید کارروائی سے بھی روک دیا۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی بینچ کل سے 22 نومبر تک کن اہم مقدمات کی سماعت کرے گا؟ تفصیلات جانیے۔
عدالتی احکامات
عدالت نے محکمہ تعلیم و دیگر فریقین کو نوٹس جاری کیا۔ عدالت نے درخواست کی سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی جارحیت پر خیبرپختونخوا حکومت وفاق کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا
اساتذہ کے حقوق کی حفاظت
عدالت نے ریمارکس میں حکم صادر کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت تک اساتذہ کی تنخواہ یا پنشن سے کسی قسم کی جبری وصولی نہ کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: انسانی حقوق تنظیموں سے اپیل ہے وہ اڈیالہ جیل کا دورہ کریں، زرتاج گل
وکیل کا موقف
وکیل اسد اللہ بلو کا کہنا تھا کہ درخواست گزار محکمہ تعلیم میں ریٹائرڈ اور حاضر سروس اساتذہ ہیں، درخواست گزار ڈرائنگ ٹیچرز، فزیکل ٹریننگ انسٹرکٹرز اور ورکشاپ انسٹرکٹرز کے کیڈرز سے تعلق رکھتے ہیں۔ متعلقہ اساتذہ کو سروس کے دوران قواعد و ضوابط کے تحت ترقی اور اپ گریڈیشن دی گئی۔
حکومتِ سندھ کی پالیسی
حکومتِ سندھ کی ٹائم اسکیل پالیسی کے مطابق گریڈ 15 سے 20 تک تنخواہیں ادا کی جاتی رہیں، محکمہ فنانس نے 21 جنوری کو خط لکھا تھا۔ خط کے بعد محکمہ اسکول ایجوکیشن نے بھی عملدرآمد کا مراسلہ جاری کیا، درخواست گزار نے کہا کہ تنخواہوں میں کٹوتی اور دی گئی اضافی رقوم کی واپسی غیر قانونی ہے، کئی اساتذہ تو ریٹائرڈ بھی ہو چکے ہیں۔








