سانحہ گل پلازہ، جوڈیشل کمیشن کے سامنے بچ جانے والے 2 شہریوں نے بیانات ریکارڈ کرا دیئے۔
سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے سامنے واقعے میں بچ جانے والے 2 شہریوں نے اپنے بیانات ریکارڈ کرا دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں بیوی نے شراب کے نشے میں دھت شوہر کو جھگڑا کرنے پر ڈنڈے مار مار کر قتل کردیا
بچ جانے والے شہریوں کے بیانات
ان بیانات میں آگ لگنے کے دوران عمارت میں افراتفری، شدید دھویں اور انتظامیہ کی جانب سے بروقت اعلان نہ کیے جانے کا انکشاف کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیپرا نے کے الیکٹرک کا ٹیرف 7 روپے 60 پیسے کم کردیا، فیصلہ جاری
محمد جنید کا بیان
شہری محمد جنید نے کمیشن کو بتایا کہ وہ رات سوا 10 بجے میزنائن فلور پر دکان بند کرکے باہر جانے لگے تھے کہ دکان کے مالک کو یاد آیا کہ موبائل فون اندر رہ گیا۔ اسی دوران دھواں نظر آیا، جس پر وہ کچھ دیر رکے رہے اور تقریباً سوا 11 بجے 2 لڑکوں کے ساتھ گل پلازا سے نکلے۔ وہ عمارت کے باتھ روم والی جانب سے باہر نکلے کیونکہ گہرے دھویں کی وجہ سے کوئی راستہ واضح نہیں تھا۔ باہر نکلنے کے بعد وہ بے ہوش ہوگئے اور انہیں ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا۔ آگ لگنے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی انتظامیہ یا ریسکیو اداروں کی جانب سے لوگوں کو نکالنے کی کوئی مؤثر کوشش کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: کیا لوگ رجسٹرڈ وی پی اینز کے ذریعے غیر اخلاقی مواد تک رسائی حاصل کر پائیں گے؟
علی حیدر کا تجربہ
دوسرے متاثرہ شہری علی حیدر نے اپنے بیان میں کہا کہ دکان بند کرتے وقت گراؤنڈ فلور پر دھواں نظر آیا، جس پر وہ عمارت کے عقبی حصے سے فوری طور پر باہر نکل گئے۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ میزنائن فلور پر آگ بھڑک اٹھی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ساڑھے 10 بجے وہ دوبارہ اپنی دکان پر آئے تو وہاں صرف دھواں تھا۔ آگ کے باعث دکان میں موجود 2 سوٹ کیس پھٹ گئے، جس کے بعد وہ بے ہوش ہوگئے۔ جب انہیں ہوش آیا تو وہ اسپتال میں تھے اور انہیں معلوم نہیں کہ کون انہیں وہاں لے کر گیا۔
سیکیورٹی کی ناکامی
انہوں نے یہ بھی کہا کہ گل پلازہ میں ایک یا 2 دروازوں کے علاوہ تمام راستے بند تھے اور جب تک وہ ہوش میں رہے، آگ لگنے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔








