دیہات میں ایسے اسکول بکثرت نظر آتے ہیں جن کے گرد چاردیواری بھی نہیں جس سے طلباء، طالبات اور اساتذہ عدم تحفظ کا شکار نظر آتے ہیں۔
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 319
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں سابقہ دشمنی پر جرگے کے دوران فائرنگ سے 2 سگے بھائی جاں بحق
تعلیمی نظام میں بنیادی چیلنجز
منسٹری آف ایجوکیشن حکومتِ پاکستان کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2005-2009ء میں 65 فیصد دیہاتی اور 35 فیصد شہری سکول بجلی کی سہولت سے محروم رہے۔ اس پہ ستم ظریفی کہ 34 فیصد سکول پینے کے پانی جبکہ 37.2 فیصد سکول باتھ روم جیسی بنیادی سہولت سے بھی محروم ہیں۔ دیہات میں ایسے سکول بکثرت نظر آتے ہیں جن کے گرد چاردیواری بھی نہیں جس سے طلبہ و طالبات اور اساتذہ کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں عدم تحفظ کا شکار نظر آتے ہیں۔ اس کی حالیہ مثال سانحہ پشاور اور باچا خان یونیورسٹی پر دہشتگردوں کے حملے ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج بھی بہت سے طالب علم ان دہشت گردانہ حملوں کے پیدا کردہ خوف سے باہر نہیں آ سکے۔
یہ بھی پڑھیں: پھول نگر میں زہریلی شراب پینے سے 4 افراد کی ہلاکت، وزیر اعلیٰ کا نوٹس، کریک ڈاؤن کا حکم دیدیا
مالی معاونت اور تعلیمی استحکام
تعلیمی نظام میں بہتری لانے میں جو عوامل کارفرما ہیں، ان میں حکومت کی طرف سے تعلیمی شعبے کے لیے کم رقم کی فراہمی کے علاوہ آبادی میں ہر سال تقریباً 36 لاکھ 80 ہزار 800 افراد کا اضافہ بھی ہے۔ جس میں سے زیادہ تر افراد کم تعلیمی اداروں یا پھر بھاری بھرکم فیسوں کی وجہ سے زیورِ تعلیم سے محروم رہتے ہیں۔ 2015ء کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کی 40 فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ 20 کروڑ کی آبادی میں 4 کروڑ نوجوان اعلیٰ تعلیم کے حق سے محروم اور بے روزگار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بسنت کے لیے ہر پتنگ، ڈور اُن کے بنانے اور بیچنے والے مکمل طور پر رجسٹرڈ ہوں گے: وزیر اطلاعات
بجٹ کی کمی اور تعلیم کی فروغ
تعلیمی شعبے میں بہتری پیدا کرنے کے امکانات اس لیے بھی نہایت کم نظر آتے ہیں کیونکہ ہر سال سالانہ بجٹ میں جی ڈی پی کا محض 2 فیصد تعلیمی شعبے کے لیے مختص کیا جاتا ہے جو کہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ تعلیمی اداروں کو حکومتی امداد میں کمی کی بدولت پرائمری تعلیم کی عمر کے لاکھوں بچے تعلیم حاصل نہیں کر پاتے۔ ایک حالیہ سروے میں یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ ملک میں موجود لیبر فورس کے دوتہائی افراد نے پرائمری کی تعلیم بھی حاصل نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سپر لیگ، غیر ملکی کھلاڑیوں کی رجسٹریشن کا عمل شروع
فعال تعلیمی پالیسیوں کی ضرورت
تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے حکومتِ وقت کو فعال تعلیمی پالیسی پر عمل کرنا ہو گا، ایسی پالیسی جو قوم کے روشن مستقبل کی ضامن ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ ناخواندگی کبھی بھی کسی بھی قوم کے روشن مستقبل کی ضمانت نہیں ہو سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: پاک پتن کا مطلب ہے پاکیزہ دھرتی کا کشتی گھاٹ، قصور سے لائن کئی اسٹیشنوں کو پیچھے چھوڑتی بزرگان دین کے ایک اور پاکیزہ شہر پاکپتن پہنچتی ہے۔
ماہرین کی رائے
پروفیسر سلیم ہاشمی نائب صدر قومی زبان تحریک پنجاب اور پروفیسر سلمان خان نے اپنے مقالہ جات میں بالترتیب پاکستانی قوم کے لیے ایک قومی نصاب اپنانے اور معیارِ تعلیم کو بلند کرنے پر زور دیا۔ پروفیسر فرح زیبا (پنجاب یونیورسٹی) کا کردار سازی پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ، بلاشبہ کسی فرد کی کردار سازی میں گھر کے ایک فرد (ماں) کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن معاشرتی روایات، تہذیب و تمدن، اخلاقیات اور سب سے بڑھ کر تعلیمی اداروں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔
تعلیمی اداروں کی ذمہ داری
تعلیمی اداروں کی بات کی جائے تو سکولوں پر سب سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ بچے بڑوں کی نسبت جلد سیکھتے ہیں۔ ہماری تمام تر توجہ اپنے بچوں کو ایک اچھا ڈاکٹر اور اچھا انجینئر بنانے کے ساتھ ایک اچھا انسان بنانے پر مرکوز ہونی چاہیے۔ جس کے لیے قرآن مجید کی باترجمہ تعلیم کو تمام سرکاری، پرائیویٹ سکولوں اور تمام مدرسوں میں لازم قرار دیا جانا ضروری ہے کیونکہ بانی پاکستان قائد اعظم کے الفاظ میں تعلیم قرآنی ہی میں ہماری نجات ہے اور اس کے ذریعے ہم ترقی کے تمام مدارج طے کر سکتے ہیں۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








