پیٹو 4 مہمان اور ”شیدا“ میزبان، پلیٹوں پر پلیٹیں آتی رہیں چَٹ ہوتی گئیں،گرم نان کیلئے دہائی پڑتی رہی، شیدا کی حالت ”جنگلی کِرلے“ کی طرح بدلتی رہی۔
مصنف
ع۔غ۔ جانباز
یہ بھی پڑھیں: بھارتی اداکارہ ’دیابین‘ کو بگ باس کے نئے سیزن میں کتنے کروڑ کی آفر ملی؟ جانیں!
قسط: 70
یہ بھی پڑھیں: بیسیوں انجن مختلف گاڑیوں کو اپنے پیچھے لگائے تیار مگر ساکت حالت میں اِدھر اْدھر کھڑے تھے،ہال میں گہرا سناٹا تھا اور کم روشنی میں بڑا ہی پراسرار ماحول تھا
کہانی کا آغاز
ایہہ تُہاڈا مال اے……؟
ہم میں سے ایک لڑکا عبدالرشید عُرف ”شیدا“ چپکے سے پولیس کے محکمہ میں جانے کے لیے جدّوجُہد کرتا رہا۔ اور پھر وہ وہاں نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ گریجوایٹ ہونے کے ناطے وہ 2سال میں ہی اے ایس آئی بن گیا اور لاہور میں تھانہ گوجرسنگھ میں تعینات ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے بارے میں قرآن پاک کا واضح پیغام، محسن نقوی
پرانے دوستوں سے ملاقات
ایک دفعہ اُس کا دل چاہا تو ہمارے دفتر میں پُرانے دوستوں سے ملنے چلا آیا۔ سب دوست خوش ہوئے لیکن سب نے عبد الرشید عرف شیدا کو ”اے ایس آئی“ بننے کی پارٹی دینے کے لیے کہا۔ اُس نے اپنی مصروفیات کا رونا رویا لیکن کسی نے اُس کی کوئی دلیل، کوئی بہانہ نہ مانا۔ چار و ناچار اُس نے وعدہ کیا کہ وہ اگلے اتوار کو لکشمی چوک میں واقع ایک ہوٹل میں دعوت دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: مخالفین کو جعلی مقدمے میں پھنسانے کے لیے بیٹی سے زیادتی کا الزام لگانے والا باپ گرفتار
دعوت کا دن
اگلے اتوار کے دن تک 7 دِن کا وقفہ تھا جو ہم ہی جانتے ہیں کس مشکل سے گذارا۔ اتوار کو اکٹھے ہو کر چاروں دوست لکشمی چوک میں واقع ہوٹل میں جا پہنچے۔ جہاں چکن بوٹی کے ساتھ گردہ کپورہ اور کلیجی بھی دستیاب تھی اور ساتھ روغنی نان۔ یہ سین بھی قابل دید تھا۔ فیلڈ کے پیٹو 4 مہمان اور ”شیدا“ میزبان۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان اور بشریٰ بی بی کیخلاف 190 ملین پاونڈ ریفرنس کا فیصلہ موخر، کل نہیں سنایا جائے گا
کھانے کا تبادلہ
پلیٹوں پر پلیٹیں آتی رہیں اور چَٹ ہوتی گئیں۔ گرم گرم نان کے لیے دہائی پڑتی رہی۔ شیدا اے ایس آئی کی حالت ”جنگلی کِرلے“ کی طرح بدلتی رہی۔ اُوپر سے ہنس ہنس کر باتیں کرتا رہا اور چپکے چپکے پلیٹوں اور نانوں کا حساب بھی لگاتا رہا۔
یہ بھی پڑھیں: ترکی: میچ میں فٹبال لگنے سے زخمی سیگل کو کھلاڑی نے بچا لیا
کھانا ختم ہونے کے بعد
کھانے کے بعد چائے یا قلفہ کا جو نام آیا تو سبھی قلفہ قلفہ پکار اُٹھے۔ کھانا ختم ہوا تو ہوٹل مالک کی درخواست پر ہم سبھی سڑک کے ساتھ رکھّی کُرسیوں پر آ بیٹھے، کیونکہ اندر گاہکوں کا رش بڑھ رہا تھا۔ شیدا ہوٹل کے مالک کے پاس کھڑا سوچوں میں گُم تھا۔ کھانے کا بل تو اُسی نے ادا کرنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے جیلوں میں قید پاکستانی ماہیگیر اور چرواہوں کے انکاونٹر کرنا شروع کردیئے : عطاء تارڑ
علی کی دلچسپی
باہر بیٹھے نا جانے کیوں علی ”شیدا“ اے ایس آئی سے پُوچھنے لگا کہ وہ سامنے اسٹیشن کی طرف سے آتی سڑک کے بائیں اندرونی ذیلی سڑک پر جہاں فرنیچر کی دوکانیں ہیں 2 ٹانگے جب سے ہم آئے ہیں وہیں کھڑے ہیں۔ وہ کوئی جگہ ہے اُن کے وہاں ٹھہرنے کی؟ تو اے ایس آئی صاحب نے کہا چھوڑیں آپ نے کیا لینا دینا اُن ٹانگوں سے؟ لیکن اُس کی یُوں بیان بازی سے سبھی مُصر ہوگئے، کہ آپ کو سب پتہ ہے۔ آپ کچھ چُھپا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں سالانہ کروڑوں کمانے والے بیوٹی کلینکس کی بڑی تعداد ٹیکس نادہندہ ہونے کا انکشاف
شیدا کا انکشاف
کافی اصرار کرنے کے بعد اُس نے بتایا کہ وہ گاہکوں کے انتظار میں کھڑے ہیں۔ ایک خالی ہے آپ اُس سے رابطہ کریں تو وہ آپ کو ایک اُونچی حویلی میں لے جائے گا۔ وہاں بڑی ہی طرح دار طوائفوں کا ڈیرہ ہوگا۔ آپ کو موٹی رقم لے کر وہاں جانا ہوگا۔ ورنہ اُن کے کارندے دھکّے دے کر باہر نکال دیں گے اور کوئی پُرسان حال نہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا اینکر پرسن مہر بخاری کی والدہ کے انتقال پر اظہارتعزیت
محمد علی کا سوال
محمد علی نے پوچھا ”پولیس اِس دھندے کو کیوں جاری رکھنے دے رہی ہے؟“ شیدا اے ایس آئی کہنے لگا کہ یہ لین دین کے معاملے ہیں۔ آپ نہ سمجھیں گے۔ ”آج وہ تھانے میں ہمارا حصّہ نہ پہنچائیں بس آج ہی یہ کام بند ہوگا۔“
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








