پاکستان کی اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ یہاں اداروں کے اشاروں پر اٹھنے اور بیٹھنے والے بھی صدیوں پر محیط سیاسی تحریکوں پر تبصرے کر رہے ہیں،ایمل ولی خان
سیاسی تبصرے اور بدقسمتی
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) صدر عوامی نیشنل پارٹی اور سینیٹر ایمل ولی خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ یہاں اداروں کے اشاروں پر اٹھنے اور بیٹھنے والے بھی صدیوں پر محیط سیاسی تحریکوں پر تبصرے کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اسرائیل جنگ اور سیز فائر، 16 دن بعد مشہد سے پہلی پرواز کی کراچی آمد
فواد چودھری کا ردعمل
سابق وفاقی وزیر فواد چودھری کا ایکس پر رد عمل دیتے ہوئے کہا، "1947ء میں ریفرنڈم کے بائیکاٹ کے ہمارے فیصلے کی وجوہات خالصتاً سیاسی تھیں، اور سیاسی معاملات کو سیاسی لوگ ہی بہتر سمجھ سکتے ہیں، فواد جیسے مسلط ٹولے کے افراد ہرگز نہیں۔"
انہوں نے مزید کہا، "1937ء اور 1946ء کے انتخابات میں خدائی خدمتگاروں نے آپ کی مسلم لیگ کے مقابلے میں واضح کامیابی حاصل کی تھی۔ ایسے میں آپ یہ کیسے دعویٰ کر سکتے ہیں کہ 1947ء میں پورا صوبہ انضمام کا خواہاں تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم جیسے لوگ نہ ہوتے تو آج بھی آپ پورے صوبے کے پاکستان کے ساتھ تعلق کا دعویٰ نہ کر پاتے۔ پختونوں اور دیگر مظلوم قومیتوں نے پاکستان کے ساتھ جو رشتہ نبھایا ہے، اس میں ہمارا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: بارشیں اور سیلابی صورتحال، گرڈ اسٹیشنز، فیڈرز اور بجلی کی ترسیلی لائنوں کی 24 گھنٹے مانیٹرنگ جاری
تاریخی حقائق کی وضاحت
انہوں نے کہا، "ڈاکٹر خان صاحب کے حوالے سے آپ نے کون سی کتاب پڑھی ہے جس میں یہ لکھا ہو کہ انہوں نے قومی پرچم کو سلام نہیں کیا؟ تاریخ کو مسخ کرنے کے بجائے اسے درست طور پر پڑھیں۔ ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت کا خاتمہ دراصل پاکستان میں پہلا مارشل لاء تھا، جو بدقسمتی سے جناح صاحب کی موجودگی میں لگایا گیا تھا۔ ہمارے ایم پی ایز کو پابند سلاسل کیا گیا اور قیوم کو وزیراعلٰی بنایا گیا، جس نے بعد میں بابڑہ کا واقعہ کیا اور پاکستان نے نہتے 600 سے زائد خدائی خدمتگاروں کو شہید کیا۔"
یہ بھی پڑھیں: ڈی آئی خان میں ضلع ایجوکیشن آفیسر سمیت 4 افراد اغوا
خارجہ پالیسی اور دہشت گردی
انہوں نے کہا، "سوویت یونین کے دور میں ہم نے عالمی طاقتوں کے کھیل کو مسترد کرتے ہوئے آپ کے نام نہاد جہاد کو فساد قرار دیا۔ ہم اُس وقت بھی آزاد خارجہ پالیسی کے حامی تھے، آج بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ افسوس کہ ہماری باتیں آپ جیسے ریاستی ترجمانوں کو سمجھنے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں، مگر آخرکار حقیقت وہی ثابت ہوتی ہے جس کی نشاندہی ہم پہلے ہی کر چکے ہوتے ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: آئندہ مالی سال 26-2025 کے سالانہ ترقیاتی پلان کے اہم اہداف طے
افغانستان کے حالات
ایمل ولی خان نے مزید کہا، "جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے، غلامی کی زنجیریں توڑنے کا بیانیہ قوم پرستوں کا نہیں تھا۔ ہم نے تو ہمیشہ یہی کہا کہ افغانستان کو افغانستان ہی رہنے دیا جائے، اسے پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کی کوشش نہ کی جائے، ورنہ اس کے نتائج خود پاکستان کو بھگتنا پڑیں گے۔"
یہ بھی پڑھیں: جو ممالک اس کام سے انکار کریں گے ان کے ساتھ تجارت نہیں ہوگی – ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دے دی
دہشت گردی کے خلاف لڑائی
انہوں نے کہا، "ہم نے دہشت گردی کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنے 1300 سے زائد کارکنان کی قربانیاں دیں۔ کیا یہ دہشت گردی ہمارے خلاف کوئی ذاتی جنگ تھی؟ اس کے باوجود پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے ہمارے صوبے پر آپ جیسے عناصر مسلط کیے، جو گرفتاری کے خوف سے بھی راہِ فرار اختیار کرتے ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: کرسٹیانو رونالڈو کا جلد ریٹائرمنٹ کا فیصلہ، وجہ بھی بتا دی
دہشتگردوں کا خاتمہ
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا، "پاکستان سے دہشت و وحشت کے خاتمے کا واحد حل یہ ہے کہ خلوصِ نیت سے گڈ اور بیڈ کی تفریق ختم کر کے ان دہشت گردوں کی حقیقی معنوں میں کمر توڑی جائے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کرنے والے، افغانستان میں طالبان رژیم کو انقلاب سے تشبیہ دینے والے، امن پر تقریریں بھی کرتے پھریں اور اندر سے وہ دہشتگرد بھی ہو۔"
تاریخی حقیقتیں
آخری بات میں انہوں نے کہاکہ، "تاریخ بہت بے رحم ہوتی ہے۔ اپنے آقاؤں سے کہیں کہ ایک ٹرتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن بنایا جائے، تاکہ یہ طے ہو سکے کہ تاریخ میں کون کہاں کھڑا تھا۔"
پاکستان کی اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ یہاں اداروں کے اشاروں پر اٹھنے اور بیٹھنے والے بھی صدیوں پر محیط سیاسی تحریکوں پر تبصرے کر رہے ہیں۔ 1947ء میں ریفرنڈم کے بائیکاٹ کے ہمارے فیصلے کی وجوہات خالصتاً سیاسی تھیں، اور سیاسی معاملات کو سیاسی لوگ ہی بہتر سمجھ سکتے ہیں،… https://t.co/laVnck6mQH
— Aimal Wali Khan (@AimalWali) February 26, 2026








