معاملہ حکمت و فہم و فراست کے ساتھ ڈیل کیا جاتا تو عمران خان جو تیسرا رمضان جیل میں گزار رہا ہے شاید آج اڈیالہ جیل کے بجائے ہسپتال میں ہوتا، علی محمد خان
پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان کا بیان
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان کا کہنا ہے کہ مجھے نہیں معلوم! پچھلے ہفتے دو ہفتے اندرون خانہ کیا بات ہوئی۔ مجھ سے کسی نے کوئی مشورہ نہیں کیا نہ پارٹی کے پارلیمینٹیرینز کو کسی نے اعتماد میں لیا۔
یہ بھی پڑھیں: نائیجیریا میں موسلادھار بارشوں کے بعد سیلاب سے تباہی، حادثات میں 115 افراد ہلاک، نظام زندگی دہم برہم
کنفیوژن اور فیصلے کی کمی
اپنے ایکس بیان میں انہوں نے کہا کہ کون کانفرنس کال پہ تھا؟ کس نے کس کو کیا کہا؟ کون کس سے رابطہ میں تھا؟ کس نے کیا منع کیا؟ حکومت کتنی واقعی میں تیار تھی عمران خان صاحب کو ہسپتال منتقل کرنے میں؟ کچھ پتہ نہیں!
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر کی آڈٹ رپورٹ 14-2013 میں سنگین مالی بے ضابطگیوں اور کسٹمز قوانین کی خلاف ورزیوں کا انکشاف
علاج کی خاطر موقع کا ضیاع
بس ایک بات پہ دل خون کے آنسو روتا ہے کہ اگر واقعی کوئی راستہ بن رہا تھا کہ خان صاحب کو علاج کی خاطر اڈیالہ جیل سے ہسپتال منتقل کیا جاتا، اور اگر کنفیوژن یا بروقت عدم فیصلہ سازی یا اعتماد سازی کے فقدان یا ہٹ دھرمی کے باعث خدانخواستہ واقعی یہ موقع ضائع ہوگیا ہے، تو جانے یا انجانے میں خان صاحب کے ساتھ بہت زیادتی ہوگئی ہے، بہت ظلم ہوگیا ہے۔ قوم معاف نہیں کرے گی جس نے بھی یہ کیا ہے اور نہ ہم عمران خان کے ورکر معاف کریں گے۔
حکمت اور فیصلہ سازی کی ضرورت
علی محمد خان نے مزید کہا کہ اگر معاملہ حکمت و فہم و فراست کے ساتھ ڈیل کیا جاتا تو میرا لیڈر جو یہ تیسرا رمضان جیل میں گزار رہا ہے، شاید آج اڈیالہ جیل کے بجائے ہسپتال میں ہوتا۔ اللّٰہ ہی بہتر جانتا ہے کہ درست کیا ہے۔
نہیں معلوم!
پچھلے ہفتے دو ہفتے اندرون خانہ کیا بات ہوئی۔ مجھ سے کسی نے کوئی مشورہ نہیں کیا نہ پارٹی کے پارلیمینٹیرینز کو کسی نے اعتماد میں لیا۔
کون کانفرنس کال پہ تھا؟ کس نے کس کو کیا کہا؟ کون کس سے رابطہ میں تھا؟ کس نے کیا منع کیا؟ حکومت کتنی واقعی میں تیار تھی…— Ali Muhammad Khan (@Ali_MuhammadPTI) February 26, 2026








