میئر پیٹرک براؤن کی جانب سے افطار ڈنر، تقریب کا مقصد بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ تھا، چوہدری محمد جاوید
بھرپور افطار ڈنر کا اہتمام
دبئی (طاہر منیر طاہر) کینیڈا کے شہر برامپٹن میں میئر پیٹرک براؤن کی طرف سے مسلم کمیونٹی کے اعزاز میں ایک شاندار افطار ڈنر منعقد کیا گیا۔ اس تقریب میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد، کمیونٹی رہنما اور معزز سماجی شخصیات نے شرکت کی جن میں کینیڈا میں مقیم ممتاز پاکستانی بزنس مین چوہدری محمد جاوید، طاہر چودھری، طارق چودھری، اور دیگر شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز کے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 9دسمبر سے اب تک 43 دہشتگرد جہنم واصل
تقریب کی اہمیت
تقریب کا بنیادی مقصد شہر میں بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دینا تھا۔ افطار ڈنر میں متعدد کونسلرز نے مسلم کمیونٹی کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 157000 پوائنٹس کا سنگ میل عبور
میئر کا پیغام
میئر پیٹرک براؤن نے اپنے خطاب میں کہا کہ برامپٹن ایک کثیرالثقافتی اور کثیرالمذاہب شہر ہے، جہاں تمام کمیونٹیز کو برابری کی بنیاد پر عزت اور مواقع فراہم کرنا سٹی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک صبر، برداشت، اور خدمتِ خلق کا پیغام دیتا ہے، اور ایسی تقریبات شہر میں اتحاد کے فروغ کا باعث بنتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ انتخابات، الیکشن کیشن نے خیبرپختونخوا کے لئے پولنگ افسران تعینات کردیے۔
چوہدری محمد جاوید کی رائے
کینیڈا میں مقیم ممتاز پاکستانی بزنس مین چوہدری محمد جاوید نے کہا کہ کینیڈا جیسے ترقی یافتہ معاشرے کی اصل طاقت اس کی مذہبی رواداری اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے میئر پیٹرک براؤن کی جانب سے مسلم کمیونٹی کو مدعو کرنے کو ایک عملی پیغام قرار دیا کہ برامپٹن سب کا شہر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی حملے میں مارے جانے والے ایرانی جرنیلوں اور ایٹمی سائنسدانوں کے نام سامنے آگئے
روحانی لمحے
اس موقع پر مسجد ابراہیمی کے انور چٹھہ نے برامپٹن سٹی ہال میں اذانِ مغرب دی، جس کی روح پرور آواز نے پورے ماحول کو سکون سے بھر دیا۔ اذان کے بعد باجماعت نماز نے تقریب کو تاریخی لمحے میں بدل دیا۔
اختتام پر دعا
تقریب کے اختتام پر عالمی امن، پاکستان اور کینیڈا کی ترقی اور برامپٹن شہر کی خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ شرکاء نے اس اقدام کو بین الثقافتی روابط کو مضبوط بنانے کی ایک مثبت کاوش قرار دیا۔









