افغانستان کے ساتھ لڑائی، پاکستان کے 12 جوان شہید، 27 زخمی، ایک اہلکار لاپتہ ہے، طالبان کے 274 مارے جا چکے، 18 چوکیاں ہمارے قبضہ میں ہیں: پاک فوج
راولپنڈی میں تازہ ترین معلومات
پاک فوج کی کارروائی
پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ 22 اور 23 کی درمیانی شب پاکستان نے ایک کارروائی کی جس کی وزارت داخلہ تفصیلات شیئر کرچکی ہے۔ اس دوران ٹی ٹی پی کے ٹھکانے نشانہ بنائے گئے۔
حملے کی تفصیلات
گزشتہ رات پاک افغان بارڈر پر افغانستان کی طرف سے پاکستان پر 53 مقامات پر حملہ کیا گیا لیکن کسی ایک مقام پر بھی انہیں کوئی کامیابی نہیں مل سکی۔ اب تک 274 طالبان ہلاک کیے جاچکے ہیں، 73 پوسٹ مکمل طور پر تباہ اور 18 ہماری تحویل میں ہیں۔ اس کارروائی میں 12 شہید، 27 زخمی اور ایک لاپتہ ہے۔
نیوز کانفرنس کی اہم باتیں
نیوز کانفرنس سے خطاب میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے وزیراعظم سے بھی آپریشن غضب للحق کی تفصیلات شیئر کی ہیں۔ دنیا نے بھی دیکھ لیا کہ پاکستان ہمہ وقت جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ کسی ایک بھی مقام پر انہیں کوئی کامیابی نہیں مل سکی، انہوں نے کواڈ کاپٹر اور چھوٹے بڑے ہتھیار بھی استعمال کیے، مگر پاکستان کی مسلح افواج نے منہ توڑ جواب دیا۔
نقصانات اور اہداف
انہوں نے بتایا کہ اب تک 274 ہلاک کیے جاچکے ہیں، 400 سے زائد زخمی ہیں، 73 پوسٹ مکمل طور پر تباہ کردی گئی ہیں اور 18 ہماری تحویل میں ہیں۔ اب تک ایک محتاط اندازے کے مطابق 150 ٹینکس اور بکتر بند گاڑیاں تباہ ہوچکی ہیں۔ وہ ہیڈکواٹر اور دفاعی مقامات فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، ان کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا۔ فضائی نشانوں میں کابل سمیت 22 مقامات پر اہداف لیے گئے جس دوران انتہائی احتیاط کی گئی تاکہ کوئی سویلین نشانہ نہ بنے۔








