ایک قوم، ایک شناخت، مائیکرو چپ ختم، حکومت نے قومی شناختی کارڈ اور پاکستان اوریجن کارڈ کے قواعد میں اہم ترامیم کی منظوری دیدی
حکومتی اصلاحات کا اعلان
اسلام آباد(آئی این پی ) حکومت پاکستان نے ایک قوم، ایک شناخت کے تصور کو عملی شکل دیتے ہوئے قومی شناختی کارڈ اور پاکستان اوریجن کارڈ کے قواعد میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی عمران خان سے کل اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے ایک بار پھر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا نام ارسال
تحقیقات کے مقاصد
سرکاری اعلامیے کے مطابق ان اصلاحات کا بنیادی مقصد قومی شناختی نظام کو جدید ڈیجیٹل تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ ترامیم کے تحت کیو آر کوڈ کو بطور باقاعدہ سیکیورٹی اور تصدیقی فیچر قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔ قواعد میں کیو آر کوڈ کو ایک محفوظ، مشین سے پڑھے جانے والے دو جہتی بارکوڈ کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جو معلومات کو انکوڈ کر کے محفوظ رکھتا ہے اور اسکین کیے جانے پر فوری شناختی تصدیق فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دو سال میں یہ جھوٹی پریس کانفرنس بھی نہیں کروا سکے کہ عمران خان جیل سے نکلنے کیلئے منتیں کر رہاہے : سینئر تجزیہ کار امیر عباس
جدید تکنیکی فیچرز
مزید برآں، قواعد میں کیو آر کوڈ یا کوئی دیگر تکنیکی فیچر شامل کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے جو مائیکروچپ کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا۔ اس اقدام سے نادرا کو جدید تصدیقی ٹیکنالوجیز اختیار کرنے میں سہولت ملے گی اور بار بار قواعد میں ترمیم کی ضرورت نہیں رہے گی۔ حکام کے مطابق کیو آر سے فعال نظام آف لائن اور آن لائن دونوں ماحول میں فوری اور محفوظ تصدیق کو ممکن بنائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کی نااہلی، جسٹس ریٹائرڈ اعجاز افضل نے خاموشی توڑ دی
بہتر شفافیت اور رابطے
اس سے نیشنل ڈیٹا ایکسچینج لیئر کے ذریعے بین الادارہ جاتی رابطہ مضبوط ہوگا، جبکہ سرکاری و نجی اداروں میں شناختی تصدیق کی رفتار اور شفافیت میں اضافہ ہوگا۔ دستی کارروائیوں میں کمی اور جعل سازی کے خطرات کم ہونے کی توقع بھی ظاہر کی گئی ہے۔ قواعد میں کارڈ کی معطلی کے اثرات کو بھی مزید واضح اور سخت کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر تعلیم کا مختلف اضلاع میں خیمہ سکولوں کا دورہ، بچوں میں کھلونے اور تحائف تقسیم کیے۔
معطلی کی صورت میں خدمات
اب کسی بھی شناختی کارڈ کی معطلی کی صورت میں اس سے منسلک تمام تصدیقی اور توثیقی خدمات فوری طور پر معطل تصور ہوں گی، تاکہ معطل شدہ کارڈ کسی ادارہ جاتی یا ڈیجیٹل نظام میں استعمال نہ ہو سکے۔ بائیومیٹرک نظام کو بھی وسعت دیتے ہوئے فنگر پرنٹس کے ساتھ آئرس اسکین کو باقاعدہ طور پر قواعد میں شامل کیا گیا ہے، جو ملٹی موڈل بائیومیٹرک شناختی نظام کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ناقص پراسکیوشن اور کمزور تفتیش کے باعث ملزمان بری ہونے لگے
بزرگ شہریوں کی سہولیات
شہری سہولت کیلئے 60 سال یا اس سے زائد عمر کے مقیم اور غیر مقیم پاکستانیوں کو خصوصی نشان کے ساتھ عمر بھر کے لئے موثر اسمارٹ قومی شناختی کارڈ جاری کرنے کی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ اس اقدام سے بزرگ شہریوں کو بار بار تجدید کے عمل سے نجات ملے گی۔
جغرافیائی شناخت
اسی طرح آزاد جموں و کشمیر کے رہائشیوں کے کارڈ پر باشندہ آزادریاست جموں وکشمیر کی عبارت درج کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ جغرافیائی شناخت کو یکساں بنایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کے ذریعے پاکستان کا قومی شناختی نظام قانونی اور تکنیکی بنیادوں پر مزید مضبوط ہوگا اور ملک مربوط ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی کی جانب ایک اہم قدم آگے بڑھے گا۔








