ایک قوم، ایک شناخت، مائیکرو چپ ختم، حکومت نے قومی شناختی کارڈ اور پاکستان اوریجن کارڈ کے قواعد میں اہم ترامیم کی منظوری دیدی

حکومتی اصلاحات کا اعلان

اسلام آباد(آئی این پی ) حکومت پاکستان نے ایک قوم، ایک شناخت کے تصور کو عملی شکل دیتے ہوئے قومی شناختی کارڈ اور پاکستان اوریجن کارڈ کے قواعد میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: آپ کا آج (ہفتے) کا دن ستاروں کی روشنی میں کیسا رہے گا ؟

تحقیقات کے مقاصد

سرکاری اعلامیے کے مطابق ان اصلاحات کا بنیادی مقصد قومی شناختی نظام کو جدید ڈیجیٹل تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ ترامیم کے تحت کیو آر کوڈ کو بطور باقاعدہ سیکیورٹی اور تصدیقی فیچر قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔ قواعد میں کیو آر کوڈ کو ایک محفوظ، مشین سے پڑھے جانے والے دو جہتی بارکوڈ کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جو معلومات کو انکوڈ کر کے محفوظ رکھتا ہے اور اسکین کیے جانے پر فوری شناختی تصدیق فراہم کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دفتر خارجہ نے پاکستان پر خفیہ اور غیر قانونی ایٹمی سرگرمیوں کے بھارتی الزامات بےبنیاد قرار دیدیئے

جدید تکنیکی فیچرز

مزید برآں، قواعد میں کیو آر کوڈ یا کوئی دیگر تکنیکی فیچر شامل کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے جو مائیکروچپ کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا۔ اس اقدام سے نادرا کو جدید تصدیقی ٹیکنالوجیز اختیار کرنے میں سہولت ملے گی اور بار بار قواعد میں ترمیم کی ضرورت نہیں رہے گی۔ حکام کے مطابق کیو آر سے فعال نظام آف لائن اور آن لائن دونوں ماحول میں فوری اور محفوظ تصدیق کو ممکن بنائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں ویپنگ اور الیکٹرانک سگریٹس کی فروخت پر مکمل پابندی عائد

بہتر شفافیت اور رابطے

اس سے نیشنل ڈیٹا ایکسچینج لیئر کے ذریعے بین الادارہ جاتی رابطہ مضبوط ہوگا، جبکہ سرکاری و نجی اداروں میں شناختی تصدیق کی رفتار اور شفافیت میں اضافہ ہوگا۔ دستی کارروائیوں میں کمی اور جعل سازی کے خطرات کم ہونے کی توقع بھی ظاہر کی گئی ہے۔ قواعد میں کارڈ کی معطلی کے اثرات کو بھی مزید واضح اور سخت کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خواتین ایتھلیٹس کے لیے جنس ٹیسٹ لازمی قرار

معطلی کی صورت میں خدمات

اب کسی بھی شناختی کارڈ کی معطلی کی صورت میں اس سے منسلک تمام تصدیقی اور توثیقی خدمات فوری طور پر معطل تصور ہوں گی، تاکہ معطل شدہ کارڈ کسی ادارہ جاتی یا ڈیجیٹل نظام میں استعمال نہ ہو سکے۔ بائیومیٹرک نظام کو بھی وسعت دیتے ہوئے فنگر پرنٹس کے ساتھ آئرس اسکین کو باقاعدہ طور پر قواعد میں شامل کیا گیا ہے، جو ملٹی موڈل بائیومیٹرک شناختی نظام کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کا بجٹ 23 تاریخ کو پاس کرنا ضروری نہیں تھا : سلمان اکرم راجہ

بزرگ شہریوں کی سہولیات

شہری سہولت کیلئے 60 سال یا اس سے زائد عمر کے مقیم اور غیر مقیم پاکستانیوں کو خصوصی نشان کے ساتھ عمر بھر کے لئے موثر اسمارٹ قومی شناختی کارڈ جاری کرنے کی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ اس اقدام سے بزرگ شہریوں کو بار بار تجدید کے عمل سے نجات ملے گی۔

جغرافیائی شناخت

اسی طرح آزاد جموں و کشمیر کے رہائشیوں کے کارڈ پر باشندہ آزادریاست جموں وکشمیر کی عبارت درج کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ جغرافیائی شناخت کو یکساں بنایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کے ذریعے پاکستان کا قومی شناختی نظام قانونی اور تکنیکی بنیادوں پر مزید مضبوط ہوگا اور ملک مربوط ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی کی جانب ایک اہم قدم آگے بڑھے گا۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...