ایرانی سپریم لیڈر اب ہم میں نہیں رہے، اسرائیلی وزیر اعظم کا دعویٰ
نیتن یاہو کا دعویٰ
تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایسے کئی اشارے موجود ہیں جن سے لگتا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اب زندہ نہیں رہے، تاہم انہوں نے یہ واضح طور پر نہیں کہا کہ انہیں مار دیا گیا ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کو تباہ کر دیا ہے اور ان کے بقول "بہت سی نشانیاں" اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ یہ "آمر" اب موجود نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپین کا یورپی یونین سے اسرائیل پر اسلحے کی فروخت پر پابندی کا مطالبہ
ایران کی جانب سے ردعمل
اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ ایرانی حکام زندہ ہیں۔ ایران کی جانب سے ہفتے کی صبح حملوں کے آغاز کے بعد سے خامنہ ای کی کوئی ویڈیو جاری نہیں کی گئی۔ اس سے قبل بین الاقوامی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ ایران پر ابتدائی حملوں میں سپریم لیڈر بھی ممکنہ اہداف میں شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: جو دوست تحریک عدم اعتماد کا شوق پورا کرنا چاہتے ہیں، ایاز صادق
جاری کارروائی
سی این این کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف جاری کارروائی صبر آزما ہے اور یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس کی ضرورت ہو گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ جنگ بالآخر "حقیقی امن" کا سبب بنے گی۔
اسرائیلی صحافی کا بیان
اس سے قبل ایک اسرائیلی صحافی کی طرف سے بھی سپریم لیڈر کے حوالے سے مبہم دعویٰ کیا جا چکا ہے۔ صحافی امیت سیگل نے اپنے ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیا "یہ امریکہ نہیں، اسرائیل تھا جس نے خامنہ ای کو نشانہ بنایا، کمپاؤنڈ پر 30 بم گرائے گئے، خامنہ ای کا ملٹری سیکریٹری اور کئی فیملی ممبرز مارے گئے، خامنہ ای کی موت بھی لگ بھگ یقینی ہے۔"








