ایرانی سپریم لیڈر اب ہم میں نہیں رہے، اسرائیلی وزیر اعظم کا دعویٰ
نیتن یاہو کا دعویٰ
تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایسے کئی اشارے موجود ہیں جن سے لگتا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اب زندہ نہیں رہے، تاہم انہوں نے یہ واضح طور پر نہیں کہا کہ انہیں مار دیا گیا ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کو تباہ کر دیا ہے اور ان کے بقول "بہت سی نشانیاں" اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ یہ "آمر" اب موجود نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل 10 کے بقیہ میچز کا فیصلہ آئندہ دو روز میں متوقع
ایران کی جانب سے ردعمل
اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ ایرانی حکام زندہ ہیں۔ ایران کی جانب سے ہفتے کی صبح حملوں کے آغاز کے بعد سے خامنہ ای کی کوئی ویڈیو جاری نہیں کی گئی۔ اس سے قبل بین الاقوامی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ ایران پر ابتدائی حملوں میں سپریم لیڈر بھی ممکنہ اہداف میں شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں 6 سالہ بچے کے ساتھ بدفعلی، 2ملزم گرفتار
جاری کارروائی
سی این این کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف جاری کارروائی صبر آزما ہے اور یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس کی ضرورت ہو گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ جنگ بالآخر "حقیقی امن" کا سبب بنے گی۔
اسرائیلی صحافی کا بیان
اس سے قبل ایک اسرائیلی صحافی کی طرف سے بھی سپریم لیڈر کے حوالے سے مبہم دعویٰ کیا جا چکا ہے۔ صحافی امیت سیگل نے اپنے ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیا "یہ امریکہ نہیں، اسرائیل تھا جس نے خامنہ ای کو نشانہ بنایا، کمپاؤنڈ پر 30 بم گرائے گئے، خامنہ ای کا ملٹری سیکریٹری اور کئی فیملی ممبرز مارے گئے، خامنہ ای کی موت بھی لگ بھگ یقینی ہے۔"








