سی آئی اے نے ایرانی رہنماؤں کے اجتماع کی نشاندہی میں مدد کی جس کے بعد اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا، امریکی میڈیا

سی آئی اے کی معلومات کا اثر

نیویارک (ویب ڈیسک) امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ سی آئی اے نے ایرانی رہنماؤں کے اجتماع کی نشاندہی میں مدد کی، جس کے بعد اسرائیل نے حملہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ہر تازہ سیاسی، قانونی مسئلے کو بار کے اجلاسوں میں اٹھا دینا گویا اپنے اْوپر لازم کررکھا تھا، یوں وکلاء کو مجبور کرتے کہ قومی مسائل پر غور و فکر کریں

حملے کی منصوبہ بندی

تفصیلات کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے سے پہلے، سی آئی اے نے سب سے اہم ہدف یعنی ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقام کا پتہ لگا لیا۔ نیویارک ٹائمز نے ماہرین کے حوالے سے بتایا کہ سی آئی اے کئی ماہ سے آیت اللہ خامنہ ای کو ٹریک کر رہی تھی اور ان کے مقامات اور معمولات سے متعلق مستند معلومات جمع کر رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: محکمہ موسمیات نے پہلے روزے سے متعلق پیشگوئی کر دی

اجلاس کی نشاندہی

نیویارک ٹائمز کے مطابق، ایجنسی کو معلوم ہوا کہ اعلیٰ ایرانی عہدیداروں کا ایک اجلاس ہفتے کی صبح تہران کے کمپاؤنڈ میں ہوگا، اور سب سے اہم بات یہ تھی کہ سپریم لیڈر بھی وہاں موجود ہوں گے۔ اس اطلاع کے ملنے پر، امریکہ اور اسرائیل نے اپنے حملے کے وقت میں تبدیلی کا فیصلہ کیا تاکہ نئی معلومات سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کو 30 ستمبر تک فعال کرنے کا ہدف دیدیا گیا

معلومات کی اہمیت

یہ معلومات دونوں ممالک کو ایک اہم کامیابی، یعنی اعلیٰ ایرانی عہدیداروں اور آیت اللہ خامنہ ای کو ایک ساتھ نشانہ بنانے کا موقع فراہم کر رہی تھیں۔ اخبار کے مطابق، یہ تیز ترین کارروائی امریکہ اور اسرائیل کے درمیان قریبی ہم آہنگی اور انٹیلی جنس کے اشتراک کی عکاس ہے، اور اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ دونوں ممالک نے ایرانی قیادت سے متعلق گہرائی تک معلومات حاصل کر رکھی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد خود کش حملہ، خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی الرٹ کی سطح بڑھا دی گئی

ایران کی غفلت

اخبار لکھتا ہے کہ اس آپریشن سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ ایران کے رہنماؤں نے خود کو خطرے سے بچانے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے، حالانکہ اسرائیل اور امریکہ نے واضح اشارے دیے تھے کہ وہ جنگ کی تیاری کر رہے ہیں۔ سی آئی اے نے اپنی انٹیلی جنس، جس میں آیت اللہ خامنہ ای کے مقام کی انتہائی درست معلومات شامل تھیں، اسرائیل کے ساتھ شیئر کی۔

یہ بھی پڑھیں: ایوان زیریں تحلیل، جاپان میں عام انتخابات کا اعلان کر دیا گیا

حملے کی تفصیلات

اسرائیل نے امریکی انٹیلی جنس اور اپنی معلومات استعمال کرتے ہوئے ایک آپریشن انجام دیا، جس کی منصوبہ بندی وہ کئی ماہ سے کر رہا تھا۔ ابتدائی طور پر، امریکہ اور اسرائیل نے رات کے وقت حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا تھا، لیکن نئی معلومات ملنے پر وقت تبدیل کرلیا گیا۔ رہنما اس مقام پر ملاقات کرنے والے تھے، جہاں ایرانی صدر، سپریم لیڈر اور ایران کے نیشنل سکیورٹی کونسل کے دفاتر واقع ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جنگ میں بھارت کا تماشہ، دنیا نے دیکھا، رافیل ایسے گرے جیسے چڑیا گرتی ہیں: مصدق ملک

اجلاس میں شرکت کرنے والے عہدیدار

رپورٹ کے مطابق، اس اجلاس میں محمد پاکپور، اسلامی انقلاب گارڈ کور کے کمانڈر ان چیف، عزیز ناصرزادہ، وزیر دفاع اور ایڈمرل علی شمخانی، ملٹری کونسل کے سربراہ، سید مجید موسوی، اسلامی انقلاب گارڈ کور ایروسپیس فورس کے کمانڈر، محمد شیرازی، نائب وزیر انٹیلی جنس اور دیگر کی شرکت کی اطلاعات تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: مہنگائی اور مظاہروں کے باوجود ایران کی حکومت گرنے کے آثار نہیں : برطانوی میڈیا

حملے کا آغاز

آپریشن اسرائیل میں صبح 6 بجے کے لگ بھگ شروع ہوا، جب لڑاکا طیارے اپنے بیسز سے اڑان بھرنے لگے۔ حملے کے لیے کم طیاروں کی ضرورت تھی، لیکن وہ طویل فاصلے کے اور انتہائی درست ہتھیاروں سے لیس تھے۔ طیاروں کے اڑان بھرنے کے دو گھنٹے اور پانچ منٹ بعد، تقریباً صبح 9:40 بجے تہران میں، طویل فاصلے کے میزائل کمپاؤنڈ پر گرے۔ حملے کے وقت، سینیئر ایرانی قومی سلامتی کے عہدیدار ایک ہی عمارت میں تھے جبکہ آیت اللہ خامنہ ای قریب ہی ایک اور عمارت میں موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی محکمہ خارجہ کا ڈاکٹر عافیہ کی رہائی سے متعلق خط پر بات کرنے سے گریز

حملے کی کامیابی

نیویارک ٹائمز کو ایک اسرائیلی دفاعی اہلکار نے بتایا کہ "حملہ تہران کے متعدد مقامات پر بیک وقت انجام دیا گیا، جن میں سے ایک میں ایران کے سیاسی-سلامتی محاذ کے سینیئر عہدیدار موجود تھے۔" اہلکار نے کہا کہ ایرانی جنگی تیاریوں کے باوجود، اسرائیل نے اپنے حملے سے "فنی طور پر حیرت انگیز" کامیابی حاصل کی۔

وائٹ ہاؤس اور سی آئی اے کا موقف

نیویارک ٹائمز کے رابطہ کرنے پر، وائٹ ہاؤس اور سی آئی اے نے ان خبروں پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...