خامنہ ای کے قتل کے بعد ملک کا نظم و نسق چلانے کیلئے عبوری قیادت کونسل قائم کر دی گئی
ایران میں عبوری قیادت کونسل کا قیام
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد ملک کا نظم و نسق چلانے کے لیے ایک عبوری قیادت کونسل قائم کر دی گئی ہے۔ ایرانی آئین کے مطابق اگر سپریم لیڈر اپنے عہدے پر موجود نہ رہیں تو اس صورت میں ایک عارضی قیادت کونسل ان کے اختیارات سنبھالتی ہے، جو نئے رہنما کے انتخاب تک ذمہ داریاں ادا کرتی ہے۔ نیا سپریم لیڈر اٹھاسی رکنی مجلسِ خبرگان کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے آخری ملاقات 4 نومبر کو ہوئی، انکی صحت پر تشویش ہے، یہ سلسلہ جاری رہا تو لوگ انتشار کی طرف چلے جائیں گے، بیرسٹر گوہر
عبوری کونسل کی تشکیل
آئینی طریقہ کار کے تحت اس عبوری کونسل میں صدرِ مملکت، عدلیہ کے سربراہ اور نگہبان کونسل کا ایک سینئر عالمِ دین شامل ہوتا ہے۔ موجودہ کونسل میں آیت اللہ علی رضا اعرافی، صدر مسعود پزشکیان اور عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژہ ای شامل ہیں۔
آیت اللہ علی رضا اعرافی کا کردار
آیت اللہ علی رضا اعرافی سرکاری اداروں میں طویل تجربہ رکھنے والے بااثر عالمِ دین سمجھے جاتے ہیں اور وہ آیت اللہ خامنہ ای کے قریبی رفقا میں شمار ہوتے تھے۔ وہ اس وقت مجلسِ خبرگان کے نائب چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور ماضی میں نگہبان کونسل کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ نگہبان کونسل کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ انتخابی امیدواروں کی جانچ پڑتال کرے اور پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے قوانین کا جائزہ لے۔








