منشیات برآمدگی کیس میں ملزم کی سزا کا فیصلہ کالعدم قرار
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں ہائیکورٹ اور ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم سردار محمد کی سزا کی بریت کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈویثرن کا دورہ مکمل کر لیا، سیاسی مداخلت ڈسپلن میں آڑے نہیں آنی چاہیے، کسی سے کوئی زیادتی نہیں ہو گی اور نہ ہی قانون سے ماورا کوئی قدم اٹھایا جائے گا۔
پروسیکیوشن کی ناکامی
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا ہے کہ ملزم اگر کسی اور کیس میں مطلوب نہیں تو فوری رہا کیا جائے۔ پراسیکیوشن کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا جس کے باعث سپریم کورٹ ملزم کو شک کا فائدہ دے کر رہا کرنے کا حکم جاری کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: متنازعہ ٹویٹ کیس، ایمان مزاری کے شوہر ہادی چٹھہ عدالت کے باہر سے گرفتار
گواہوں کے بیانات میں تضادات
جسٹیس اشتیاق ابراہیم نے تحریری فیصلہ میں لکھا کہ گواہوں کے بیانات میں واضح تضادات موجود ہیں۔ ریکارڈ کے مطابق پولیس گواہان کے جائے وقوعہ پر پہنچنے کے وقت اور مقام کے بیانات میں بھی فرق پایا گیا ہے جبکہ منشیات کی برآمدگی سے لیبارٹری منتقلی تک سیف کسٹڈی کا تسلسل بھی ثابت نہیں ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کے 13 اضلاع میں 7 روز کے لئے دفعہ 144 نافذ
ثبوت کا معیار
فیصلہ میں مزید لکھا گیا کہ مال مقدمہ کی منتقلی میں تاخیر اور خلا پراسیکیوشن کے کیس کے لیے مہلک ثابت ہوا۔ علاوہ ازیں، جائے وقوعہ کا نقشہ اور روزنامچہ کی انٹریز عدالت میں پیش نہیں کی گئیں جبکہ سخت سزا والے کیسز میں ثبوت کا معیار بھی سخت اور شک و شبہ سے بالاتر ہونا چاہیے۔
کیس کی تاریخ
یاد رہے تھانہ لورالائی میں ملزم کے خلاف 15 کلو چرس برآمدگی کا کیس درج تھا جس میں ٹرائل کورٹ نے ملزم سردار محمد کو عمر قید کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد بلوچستان ہائیکورٹ کوئٹہ نے ٹرائل کورٹ کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ دیا تھا۔








