منشیات برآمدگی کیس میں ملزم کی سزا کا فیصلہ کالعدم قرار
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں ہائیکورٹ اور ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم سردار محمد کی سزا کی بریت کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: صدرِ آصف علی زرداری نے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے منظور کر لیے۔
پروسیکیوشن کی ناکامی
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا ہے کہ ملزم اگر کسی اور کیس میں مطلوب نہیں تو فوری رہا کیا جائے۔ پراسیکیوشن کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا جس کے باعث سپریم کورٹ ملزم کو شک کا فائدہ دے کر رہا کرنے کا حکم جاری کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صرف 6 ہزار روپے کی خاطر شہری کو قتل کردیا گیا
گواہوں کے بیانات میں تضادات
جسٹیس اشتیاق ابراہیم نے تحریری فیصلہ میں لکھا کہ گواہوں کے بیانات میں واضح تضادات موجود ہیں۔ ریکارڈ کے مطابق پولیس گواہان کے جائے وقوعہ پر پہنچنے کے وقت اور مقام کے بیانات میں بھی فرق پایا گیا ہے جبکہ منشیات کی برآمدگی سے لیبارٹری منتقلی تک سیف کسٹڈی کا تسلسل بھی ثابت نہیں ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیں: لارنس بشنوئی کی جانب سے معافی مطالبے پر سلمان خان کے والد کا کرارا جواب
ثبوت کا معیار
فیصلہ میں مزید لکھا گیا کہ مال مقدمہ کی منتقلی میں تاخیر اور خلا پراسیکیوشن کے کیس کے لیے مہلک ثابت ہوا۔ علاوہ ازیں، جائے وقوعہ کا نقشہ اور روزنامچہ کی انٹریز عدالت میں پیش نہیں کی گئیں جبکہ سخت سزا والے کیسز میں ثبوت کا معیار بھی سخت اور شک و شبہ سے بالاتر ہونا چاہیے۔
کیس کی تاریخ
یاد رہے تھانہ لورالائی میں ملزم کے خلاف 15 کلو چرس برآمدگی کا کیس درج تھا جس میں ٹرائل کورٹ نے ملزم سردار محمد کو عمر قید کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد بلوچستان ہائیکورٹ کوئٹہ نے ٹرائل کورٹ کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ دیا تھا۔








