ریاض، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران امیر افراد اور سینئر ایگزیکٹوز کے انخلاء کا مرکز بن گیا

ریاض: انخلا کا ایک اہم مرکز

ریاض (ڈیلی پاکستان آن لائن) خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر خلیج سے نکلنے کے خواہشمند امیر افراد اور سینئر ایگزیکٹوز کے لیے سعودی دارالحکومت ریاض ایک اہم انخلاء مرکز بن گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی؛ 7 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے الزام میں گرفتار ملزم ہلاک

سیکورٹی کی صورتحال

امریکی اخبار ’سیمافور‘ کے مطابق ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ خطے کے ان چند بڑے ہوائی اڈوں میں سے ایک ہے جو ابھی تک معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے ہفتے کے آخر میں دبئی، ابوظہبی، قطر اور بحرین کو نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن پر رپورٹ آ گئی، پاکستان کس نمبر پر ہے۔۔؟ آپ بھی جانیے۔

سفر کے چیلنجز

دیگر مقامات پر فضائی حدود بند ہونے کے باعث پھنسے ہوئے ایگزیکٹوز اور امیر افراد بری راستے سے ریاض کا سفر کر رہے ہیں، جن میں سے بعض دبئی سے تقریباً دس گھنٹے کا سفر طے کر کے وہاں پہنچ رہے ہیں تاکہ نجی یا تجارتی پروازوں کے ذریعے خطے سے باہر نکل سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان کی زیر صدارت فل کورٹ اجلاس، سپریم کورٹ رولز 2025ء اختیار کرنے کا فیصلہ

نجی سیکیورٹی کا کردار

سیمافور نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ نجی سیکیورٹی کمپنیاں اپنے کلائنٹس کو سعودی دارالحکومت تک پہنچانے کے لیے ایس یو وی گاڑیوں کے بیڑے کرائے پر لے رہی ہیں اور پھر چارٹرڈ طیاروں کا بندوبست کر رہی ہیں۔ انخلاء کرنے والوں میں عالمی مالیاتی اداروں کے سینئر عہدیدار اور وہ امیر افراد شامل ہیں جو کاروباری یا سیاحتی مقاصد کے لیے خلیج میں موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پختونخوا: سرکاری محکموں کی میٹنگز 100 فیصد ورچوئل ہونگی، 50 فیصد ورک فرام ہوم نافذ کرنے کا فیصلہ

اخراجات میں اضافہ

طلب میں اچانک اضافے کی وجہ سے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ نجی جیٹ بروکریج ویمانہ پرائیویٹ کے چیف ایگزیکٹو امیر نارن نے سیمافور کو بتایا کہ ریاض اس وقت خطے سے نکلنے کے لیے "واحد حقیقی آپشن" ہے، جہاں سے یورپ کے لیے نجی جیٹ چارٹر 3 لاکھ 50 ہزار ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

متبادل راستوں کی قلت

متبادل راستے بھی محدود ہو گئے ہیں۔ سیکیورٹی فراہم کرنے والوں نے ابتداء میں عمان کو بطور راہداری استعمال کرنے پر غور کیا، تاہم ایران کے مبینہ حملوں میں عمان کی بندرگاہوں اور ایک ٹینکر کو نقصان پہنچنے کے بعد یہ راستہ بھی ناقابل استعمال ہو گیا، جس سے ریاض سب سے قابل رسائی ٹرانزٹ پوائنٹ بن گیا۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...