وزیر اعظم کی عمان کے سلطان سے ٹیلی فونک گفتگو، خطے میں مزید کشیدگی روکنے کیلئے سفارتی کوششیں دوبارہ شروع کرنے پر زور
سفارتی کوششوں کی ضرورت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے خطے میں مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں فوری طور پر دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
یہ بھی پڑھیں: سکول کے پچھواڑے سے پہاڑی علاقہ شروع ہوتا ہے، دوسرے استاد فٹ بال ٹیم کے انچارج بھی تھے، سگریٹ نوشی کی وجہ سے اُس سے اپنی گاڑی چھننے لگی۔
علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے ایران پر اسرائیل کے حملے کے تناظر میں بگڑتی ہوئی موجودہ علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، جس کی وجہ سے پورے خطے کی امن و سلامتی خطرے میں پڑ گئی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ ایران کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں، جن میں عمان نے فعال کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: شام تک بہت کھیلے، جذبات اس قدر عروج پر تھے کہ ہم دوپہر کا کھانا بھی بھلا بیٹھے، دور بیٹھی میری بیگم یہ بچگانہ حرکتیں دیکھ کر مسکرائے جا رہی تھی۔
سفارتی عمل متاثر ہوا
ان حملوں نے نہ صرف اہم سفارتی عمل کو پٹڑی سے اتارا بلکہ خطے میں بات چیت کو فروغ دینے اور کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچایا۔ انہوں نے مزید کشیدگی کو روکنے اور سفارتی اقدامات کو فوری دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی صدر نے ٹرمپ کی نیتن یاہو کو معاف کرنے کی درخواست مسترد کردی
عمان کی ثالثی کی تعریف
عمان کے ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے وزیر اعظم نے مسقط کی جانب سے علاقائی اور بین الاقوامی سٹیک ہولڈرز کے درمیان مکالمے کو آسان بنانے اور اعتماد سازی کی تعمیری کوششوں کے سلسلے میں سلطان ہیثم بن طارق کی تعریف کی۔ انہوں نے عمان کی متوازن سفارت کاری کو خطے میں استحکام پیدا کرنے کے لیے اہم قرار دیا۔
سفارتی تعاون پر اتفاق
دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے میں رہنے اور امن کی بحالی اور دیرپا علاقائی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی اقدامات کی حمایت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔








