ایران کے بعد پاکستان اگلا ہدف ہو سکتا ہے، یہ تاثر بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے، سینئر سیکیورٹی عہدیدار کی میڈیا سے گفتگو
پاکستان کی موقف: مستحکم ایران کی خواہش
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک مستحکم اور پُرامن ایران کا خواہاں ہے، یہ تاثر کہ ایران کے بعد پاکستان اگلا ہدف ہو سکتا ہے دراصل بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے، پاکستان اور ایران کو عسکری، خارجہ پالیسی اور داخلی حالات کے اعتبار سے یکساں قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی، اسلام آباد، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم میں آئندہ 2 سے 6 گھنٹوں کے دوران اربن فلڈنگ کا خطرہ
پاکستان کی متوازن پالیسی
تفصیلات کے مطابق سیکیورٹی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایران کے حوالے سے پاکستان متوازن پالیسی پر عمل پیرا ہے، ایران نے پاکستان کے ردِعمل کو سراہا ہے، جس کی تائید چین اور روس نے بھی کی، پاکستان نے ایران کی جانب سے برادر عرب ممالک کو نشانہ بنانے پر اپنے تحفظات واضح طور پر بیان کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 9 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم کو سزائے موت، آخری الفاظ کیا تھے اور آخری کھانا کیا کھایا؟
پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مستحکم اور پُرامن ایران کا خواہاں ہے، یہ تاثر کہ پاکستان اگلا ہدف ہو سکتا ہے، بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے۔ پاکستان مضبوط خارجہ پالیسی پر کاربند ہے اور متعدد عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ ہمارا مؤقف عوامِ پاکستان کے استحکام اور خوشحالی کے لیے تعمیری روابط پر مبنی ہے، پاکستان کے عالمی تعلقات باہمی احترام اور اعتماد کی بنیاد پر قائم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا کے خلاف اپیلوں پر جواب طلب
دفاعی صلاحیت
Sیکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جس کا مظاہرہ حالیہ معرکۂ حق اور دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں کیا جا چکا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج اپنی بہادر اور ثابت قدم قوم کی حمایت سے دشمن کے ہر مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔ اگر کسی کو اس حوالے سے کوئی شبہ ہے تو وہ زمینی حقائق دیکھ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں فوری جنگ بندی ہونی چاہیے:پاکستانی مندوب عاصم افتخار کا سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب
انتشار کے عناصر کی مذمت
انتشار پھیلانے والے عناصر کی جانب سے پیدا کی جانے والی غلط فہمیوں اور پروپیگنڈے کی پاکستان سخت مذمت کرتا ہے۔ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنی دہائیوں پر محیط برادرانہ اور اسٹریٹجک تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کی شرکت
انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) سے متعلق تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔ پاکستان کی شرکت کا فیصلہ حکومتِ پاکستان مکمل جانچ پڑتال کے بعد کرے گی۔








