عالمی صف بندی اور اتحاد کا تقاضا
تعارف
تحریر: محمد اقبال اعوان
اسلام انسان کو متوازن، باوقار اور بااصول زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن و سنت میں تدبر، حکمت اور مشاورت کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 4 ماہ کے دوران ایک ارب 72 کروڑ کی بیرونی امداد ملی ، اقتصادی امور ڈویژن
منصوبہ بندی کی اہمیت
کسی بھی قدم سے پہلے منصوبہ بندی کرنا کامیابی کی پہلی شرط ہے، کیونکہ بغیر منصوبہ بندی کے کیے گئے اقدامات اکثر مطلوبہ نتائج نہیں دے پاتے۔ اسلامی تعلیمات میں حالات و واقعات پر گہری نظر رکھنے، باہمی اتحاد کو فروغ دینے اور بصیرت کے ساتھ فیصلے کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کرم میں کشیدگی کی وجہ کیا کچھ تھا۔۔۔؟ بیرسٹر سیف نے بتا دیا
قوموں کی طاقت
تاریخ گواہ ہے کہ داخلی اختلافات اور عدمِ اعتماد قوموں کو کمزور کرتے ہیں، جبکہ اتحاد اور نظم و ضبط انہیں طاقتور بناتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عراق اقوام متحدہ میں جمع کرائی گئی اپنی سرحدی حدود کے نقشے واپس لے، خلیج تعاون کونسل نے بڑا مطالبہ کر دیا
ایران اور اسرائیل کا تناؤ
ایران کو خطے میں ایک اہم اور بااثر طاقت سمجھا جاتا ہے، جس کا سیاسی نظام 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد مذہبی بنیادوں پر استوار ہوا۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کئی دہائیوں سے شدید کشیدگی پائی جاتی ہے، اور یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو اسٹریٹجک حریف تصور کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لکی مروت میں دھماکا خیز مواد پھٹنے سے 5 بچے جاں بحق، 12 افراد زخمی
پناہ گزینی کی صورتحال
پالیسین کے معاملے پر ایران کھل کر فلسطینی مؤقف کی حمایت کرتا آیا ہے۔ فلسطین-اسرائیل تنازع ایک طویل اور پیچیدہ مسئلہ ہے جس میں متعدد علاقائی اور عالمی طاقتیں بھی بالواسطہ یا براہِ راست کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے مابین تعلقات طویل عرصے سے کشیدہ رہے ہیں، اور کسی بھی پیش رفت کے عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت لڑائی سے چینی ہتھیاروں کی ساکھ بن گئی، بلوم برگ نے بھی اعتراف کر لیا، پوری دنیا میں پاک افواج کی دھاک بیٹھ گئی
حالیہ اقدامات
اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کا آغاز کیا۔ امریکہ نے آپریشن ایپک فیوری کے تحت اور اسرائیل نے لائنز روئر مہم میں مشترک طور پر ایران کے مختلف شہروں پر میزائلوں کی بارش کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: چین اب بدل چکا ہے، 14 سال پہلے جب آیا تو بالکل مختلف تھا: آصف زرداری
ایران کا جواب
جوابی کارروائی میں ایران نے آپریشن فتح خیبر شروع کیا۔ گزرتے دنوں کے ساتھ یہ لڑائی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اور یہ دنیا کے وجود کو اپنی وسعت میں لپیٹ کر تباہ و برباد کر سکتی ہے۔ ایران کی جوابی کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی، جبکہ لبنان میں قائم تنظیم حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر میزائل داغنے کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلامک سولیڈیرٹی گیمز 2025 سے وطن واپسی پر اتھلیٹس ارشد ندیم اور یاسر سلطان کا ایئرپورٹ پر لیسکو کی جانب سے والہانہ استقبال
آبنائے ہرمز کی بندش
حالیہ اقدامات میں آبنائے ہرمز کو ایران نے بند کر دیا جس سے پوری دنیا کی تجارت متاثر ہو گی۔ آبنائے ہرمز ایک نہایت اہم اسٹریٹجک بحری گزرگاہ ہے جس کے ذریعے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کو بہترین میسر علاج فراہم کیا گیا، یہ افراتفری اور انتشار پھیلانا چاہتے ہیں: رانا ثناء اللہ
اتحاد کی طاقت
یہ صورتحال ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ اتحاد میں طاقت ہے۔ کہاوت ہے: “ایک اور ایک گیارہ ہوتے ہیں۔” جب قومیں باہم جڑ جائیں، مشترکہ مفادات کو ترجیح دیں اور اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کریں تو وہ نہ صرف اپنے دفاع کو مضبوط بنا سکتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی باوقار مقام حاصل کر سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی نادہندگان سمیت تمام صنعتوں کی پیداوار ڈیجیٹائز کرکے ٹیکس نیٹ میں لانے کی ہدایت
عالمی منظرنامہ
موجودہ حالات میں جذبات کے ساتھ ساتھ دانشمندی، سفارتی حکمتِ عملی اور باہمی تعاون ہی وہ راستہ ہے جو پائیدار استحکام اور ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے. منظرنامے پر یہ تنازع مختلف بلاکس کی صورت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
خلاصہ اور نوٹ
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔
اگر آپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’[email protected]‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔








