عالمی صف بندی اور اتحاد کا تقاضا
تعارف
تحریر: محمد اقبال اعوان
اسلام انسان کو متوازن، باوقار اور بااصول زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن و سنت میں تدبر، حکمت اور مشاورت کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا ؟
منصوبہ بندی کی اہمیت
کسی بھی قدم سے پہلے منصوبہ بندی کرنا کامیابی کی پہلی شرط ہے، کیونکہ بغیر منصوبہ بندی کے کیے گئے اقدامات اکثر مطلوبہ نتائج نہیں دے پاتے۔ اسلامی تعلیمات میں حالات و واقعات پر گہری نظر رکھنے، باہمی اتحاد کو فروغ دینے اور بصیرت کے ساتھ فیصلے کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایسی سفاک عدالت نہیں دیکھی جاتی۔۔۔
قوموں کی طاقت
تاریخ گواہ ہے کہ داخلی اختلافات اور عدمِ اعتماد قوموں کو کمزور کرتے ہیں، جبکہ اتحاد اور نظم و ضبط انہیں طاقتور بناتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: معروف قانون دان نے 26ویں آئینی ترمیم کو آئین پاکستان کے خلاف قرار دے دیا
ایران اور اسرائیل کا تناؤ
ایران کو خطے میں ایک اہم اور بااثر طاقت سمجھا جاتا ہے، جس کا سیاسی نظام 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد مذہبی بنیادوں پر استوار ہوا۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کئی دہائیوں سے شدید کشیدگی پائی جاتی ہے، اور یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو اسٹریٹجک حریف تصور کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں ایک اور مسافر بس پر حملہ، تین افراد جاں بحق، متعدد زخمی
پناہ گزینی کی صورتحال
پالیسین کے معاملے پر ایران کھل کر فلسطینی مؤقف کی حمایت کرتا آیا ہے۔ فلسطین-اسرائیل تنازع ایک طویل اور پیچیدہ مسئلہ ہے جس میں متعدد علاقائی اور عالمی طاقتیں بھی بالواسطہ یا براہِ راست کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے مابین تعلقات طویل عرصے سے کشیدہ رہے ہیں، اور کسی بھی پیش رفت کے عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خزانہ کی دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو پاکستان کی ترقی میں شامل ہونے کی دعوت
حالیہ اقدامات
اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کا آغاز کیا۔ امریکہ نے آپریشن ایپک فیوری کے تحت اور اسرائیل نے لائنز روئر مہم میں مشترک طور پر ایران کے مختلف شہروں پر میزائلوں کی بارش کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: قومی آل راؤنڈر شاداب خان کا بگ بیش لیگ 15 میں ٹیم سڈنی تھنڈر کے لیے باقی میچز نہ کھیلنے کا اعلان
ایران کا جواب
جوابی کارروائی میں ایران نے آپریشن فتح خیبر شروع کیا۔ گزرتے دنوں کے ساتھ یہ لڑائی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اور یہ دنیا کے وجود کو اپنی وسعت میں لپیٹ کر تباہ و برباد کر سکتی ہے۔ ایران کی جوابی کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی، جبکہ لبنان میں قائم تنظیم حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر میزائل داغنے کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف نے عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کی منظوری دے دی
آبنائے ہرمز کی بندش
حالیہ اقدامات میں آبنائے ہرمز کو ایران نے بند کر دیا جس سے پوری دنیا کی تجارت متاثر ہو گی۔ آبنائے ہرمز ایک نہایت اہم اسٹریٹجک بحری گزرگاہ ہے جس کے ذریعے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوات: مٹہ میں اے این کے مقامی رہنما پر قاتلانہ حملہ
اتحاد کی طاقت
یہ صورتحال ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ اتحاد میں طاقت ہے۔ کہاوت ہے: “ایک اور ایک گیارہ ہوتے ہیں۔” جب قومیں باہم جڑ جائیں، مشترکہ مفادات کو ترجیح دیں اور اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کریں تو وہ نہ صرف اپنے دفاع کو مضبوط بنا سکتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی باوقار مقام حاصل کر سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 26 نومبر احتجاج کیس؛ علیمہ خان کو 23 فروری کو پیش ہونے کا حکم
عالمی منظرنامہ
موجودہ حالات میں جذبات کے ساتھ ساتھ دانشمندی، سفارتی حکمتِ عملی اور باہمی تعاون ہی وہ راستہ ہے جو پائیدار استحکام اور ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے. منظرنامے پر یہ تنازع مختلف بلاکس کی صورت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
خلاصہ اور نوٹ
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔
اگر آپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’[email protected]‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔








