یہ وہ ریسکیو ہے جس کا ایرانی عوام سے وعدہ کیا تھا؟
ایران میں طالبات کا ہولناک قتل عام
لاہور (طیبہ بخاری سے) ایران کے جنوبی شہر مناب میں لڑکیوں کے سکول پر امریکی، اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہونے والی طالبات کی تعداد ایرانی ذرائع کے مطابق 160 سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ حالیہ کشیدگی کے دوران پیش آیا۔ ایران نے اسے امریکہ اور اسرائیل کا ’’مشترکہ دہشت گردانہ حملہ‘‘ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رکن پنجاب اسمبلی احمر بھٹی نے مقامی حکومتوں کے بجٹ کے لیے پی ایف سی شیئر پر اہم اعتراض اٹھا دیا
سکول کی تباہی کا منظر
The destroyed building is a primary school for girls in the south of Iran. It was bombed in broad daylight, when packed with young pupils.
Dozens of innocent children have been murdered at this site alone.
These crimes against the Iranian People will not go unanswered. pic.twitter.com/AVqiuolgWm
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) February 28, 2026
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں 98 آکٹین پیٹرول کی قیمت میں اضافہ
شہید طالبات کی تعداد اور غم
ایرانی حکام اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، شہید ہونے والوں میں زیادہ تر کم عمر طالبات شامل تھیں جو سکول میں موجود تھیں۔ ایرانی اعلیٰ عہدیدار نے قبروں کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ’’یہ وہ ریسکیو ہے جس کا ٹرمپ نے ایرانی عوام سے وعدہ کیا تھا‘‘ اور غزہ سے مناب تک بے گناہوں کے قتل کا ذکر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس، علی امین سمیت 25 ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
اجتماعی نماز جنازہ
نماز جنازہ کی ادائیگی ایران کے شہر مناب میں ان 160 سے زائد شہید طالبات کی اجتماعی نمازِ جنازہ میں ہزاروں سوگواروں نے شرکت کی فضاء آہ و بکا، سسکیوں اور غم سے بھری تھی۔ جنازے کے دوران امریکہ مردہ باد اور اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگائے گئے۔ ایرانی نشریاتی اداروں نے بتایا کہ معصوم بچیوں کو آہوں اور سسکیوں کے درمیان سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خضدار میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، 2 دہشتگرد ہلاک
عالمی رد عمل
یہ سانحہ پورے ایران میں شدید غم و غصے کا باعث بنا ہے، اور عالمی سطح پر بھی اس کی مذمت کی جا رہی ہے۔ شہادتوں کی تعداد مختلف رپورٹس میں 148 سے 180 تک بتائی جا رہی ہے، لیکن ایرانی سرکاری ذرائع 160 سے زائد معصوم بچوں کی شہادت کی تصدیق کر رہے ہیں۔
انسانی ضمیر پر اثر
یہ دلخراش منظر انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنے والا ہے، جہاں معصوم بچوں کی زندگیاں جنگ کی بھٹی میں جھلس گئیں۔








