جنگلی حیات مستقبل کا سرمایہ ہے، تحفظ کرنا ہمارا فرض ہے: وزیر اعلیٰ مریم نواز
جنگلی حیات کی اہمیت
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ مریم نواز نے جنگلی حیات کو زمین پر حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سکول ٹیچر سے زیادتی اور نازیبا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے میں ملوث ملزم گرفتار
جنگلی حیات کے عالمی دن کا پیغام
جنگلی حیات کے عالمی دن پر وزیر اعلیٰ نے خصوصی پیغام میں جنگلی حیات کے تحفظ اور بقاء و فروغ کے لیے تاریخی اقدامات پر اظہار اطمینان کیا ہے۔ پنجاب میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے اختراعی اقدامات کیے گئے ہیں۔ جس کے مطابق پنجاب حکومت نے غیر قانونی شکار اور غیر قانونی ملکیت کے لیے پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ 1974 اور پروٹیکٹڈ ایریاز ایکٹ میں تاریخی ترامیم منظور کی ہیں۔ وائلڈ لائف ہیلپ لائن 1107 مکمل طور پر فعال ہے۔ جنگلی حیات کی شوٹنگ لائسنس، امپورٹ ایکسپورٹ اور شکار پرمٹ، بریڈنگ فارم رجسٹریشن کی آن لائن سہولت دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: منیجر پاکستان ہاکی ٹیم مبینہ طور پر جہاز میں سگریٹ پیتے پکڑے گئے، آف لوڈ کردیاگیا
جدید ٹیکنالوجی کا استعمال
پنجاب میں پہلی مرتبہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے آرٹی فیشل انٹیلی جنس بیسڈ جانور شماری کا سسٹم نافذ کیا گیا ہے۔ ریسکیو کیے گئے جانوروں کی نگرانی کے لیے پہلی مرتبہ جی پی ایس اور کالر ٹریکر سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔ سفاری چڑیا گھر لاہور میں تھری ڈی سکرین، جانوروں کے مجسمے اور دیگر خوبصورت اختراعات آویزاں کر دی گئی ہیں۔ پنجاب کے پہلے وائلڈ لائف ہسپتال کا 80 فیصد تعمیراتی کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ ہسپتال میں ہر جانور کے لیے سپیشلسٹ وٹرنری ڈاکٹرز تعینات کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: میچ فکسنگ میں ملوث ٹینس کھلاڑی پر 12 سال کی پابندی عائد ، 1 لاکھ 10 ہزار ڈالر کا جرمانہ
نئی سہولیات اور منصوبے
سفاری زو میں 7D وائلڈ لائف سینما بھی تکمیل کے قریب پہنچ گیا ہے۔ پنجاب حکومت جلد ہی شہریوں کے لیے گھر بیٹھے جنگلی حیات کے مشاہدے سے لطف اندوز ہونے کے لیے 360 ڈگری ورچوئل چڑیا گھر بھی بنانے جا رہی ہے۔ چھانگا مانگا، اوچھالی، چشمہ بانسرا گلی زوالوجیکل گارڈن اور مری ڈائیورسٹی پارک کی تعمیر و تزئین جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قصور ڈانس پارٹی میں ڈسٹرکٹ پولیس افسر کا پرنسپل سیکریٹری ملوث نکلا
مقید جانوروں کے معیار
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ مقید جانوروں اور پرندوں کو رکھنے کے لیے رہائشی سٹینڈرڈ کا تعین شاندار اقدام ہے۔ پنجاب نے 544 وائلڈ لائف رینجرز متعارف، جدید اسلحہ، آئی ٹی، ڈرونز اور باڈی کیم اور نائٹ وژن آلات مہیا کرکے لیڈ لے لی ہے۔ صحرائی علاقوں میں مقامی جانوروں اور پرندوں کے لیے بائیکس کا خصوصی سکواڈ قائم کرنا خوش آئند ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کا صحافی سلمان مسعود کے والد کے انتقال پر اظہار افسوس
حفاظتی اقدامات اور حقوق
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ صوبے میں وائلڈ لائف فورس قائم کرکے جنگلی حیات کا تحفظ یقینی بنایا جا رہا ہے۔ اینیمل رائٹس اینڈ پروٹیکشن ایکٹ کو مزید جامع اور مؤثر بنایا گیا ہے۔ غیر قانونی شکار، پرندوں اور جانوروں کی غیر قانونی قید اور تشدد پر سخت ترین کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ جانوروں کے حقوق کے احترام سے متعلق حکومت اسلامی تعلیمات پر عملدرآمد اور قانونی تقاضوں پورے کر رہی ہے۔ جنگلی جانور اور پرندے فطرت میں توازن برقرار رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔
جنگلی حیات کا مستقبل
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ جنگلی حیات اور نایاب نسلوں کے تحفظ سے سیاحت اور روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ جنگلی حیات مستقبل کا سرمایہ ہیں، تحفظ کرنا ہمارا فرض ہے۔ وزیراعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ جنگلی حیات کے تحفظ میں حکومت کا ساتھ دیں۔








