فضائی روٹس بند ہونے سے پاکستان سمیت متعدد ممالک کے مسافر پھنسے ہوئے ہیں، ایران میں اس وقت بھی 33 ہزار پاکستانی موجود ہیں، اسحاق ڈار

ایران اور خلیجی ممالک کے فضائی روٹس کا بند ہونا

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران اور خلیجی ممالک کے فضائی روٹس بند ہونے سے پاکستان سمیت متعدد ممالک کے مسافر پھنسے ہوئے ہیں، ایران میں اس وقت بھی 33 ہزار پاکستانی موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مبارک ثانی کیس: سپریم کورٹ نے 6 فروری اور 24 جولائی کے فیصلے واپس لے لئے

پاکستانی مسافروں کی صورتحال

میڈیا بریفنگ میں اسحاق ڈار نے کہا کہ ابوظبی میں میزائل گرنے سے ایک پاکستانی شہید ہوا، عراق میں 40 ہزار پاکستانی موجود ہیں جن میں بڑی تعداد زائرین کی ہے، قطر میں ساڑھے تین لاکھ پاکستانی موجود ہیں جبکہ وزٹ ویزے پر 1450 افراد آئے ہوئے ہیں، ایران میں اس وقت بھی 33 ہزار پاکستانی موجود ہیں، 300 کے قریب ایرانی شہری بھی پاکستان آئے ہیں، 792 پاکستانی ایران سے واپس آچکے ہیں، ایران سے 64 پاکستانی آذر بائیجان پہنچے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: No Tolerance for Those Who Resort to Violence: Maryam Nawaz

متبادل زمینی راستے

انہوں نے کہا کہ ایران اور خلیجی ممالک کے فضائی روٹس بند ہیں، پاکستان سمیت متعدد ممالک کے مسافر پھنسے ہوئے ہیں، خلیجی ممالک کے زمینی راستے کھلے ہیں، عمان اور سعودی عرب کے سوا تمام فضائی راستے بند ہیں۔ زمین راستے تو کھلے ہیں مگر ان میں سفر کرنے میں وقت بہت صرف ہوتا ہے، پاکستانیوں کے انخلا میں معاونت پر آذربائیجان حکومت کے شکر گزار ہیں، باکو سے پروازیں آپریشن ہیں جہاں سے پاکستانیوں نے انخلا کیا۔

سعودی عرب میں پاکستانیوں کی موجودگی

اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب میں 25 لاکھ پاکستانی موجود ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ موجود ہے، نتیجہ سب کے سامنے ہے ایران نے سب سے کم حملے سعودیہ اور عمان میں کیے ہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...