برطانوی وزیراعظم کی طرف سے افطار ڈنر میں پاکستانی ہائی کمشنر کی شرکت، کیئرسٹارمر سے ملاقات
برطانوی وزیرِاعظم کی گرمجوشی سے ملاقات
لندن ( نمائندہ خصوصی ) برطانوی وزیرِاعظم Keir Starmer نے رمضان المبارک کے موقع پر منعقدہ ایک باوقار افطار ڈنر میں پاکستان کے ہائی کمشنر Dr Mohammad Faisal سے نہایت گرمجوشی اور خوشگوار ماحول میں ملاقات کی، جسے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اور دوستانہ تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: شہریوں سے صفائی کا بل لینے کے لیے نیا طریقہ کار طے
افطار تقریب کی تفصیلات
افطار تقریب کے دوران وزیرِاعظم اسٹارمر نے ڈاکٹر محمد فیصل کا پُرتپاک استقبال کیا، اُن سے مصافحہ کیا، خیریت دریافت کی اور مستقبل میں دوبارہ تفصیلی ملاقات کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ اس دوستانہ اندازِ ملاقات نے پاکستان اور برطانیہ کے سفارتی تعلقات میں بڑھتی ہوئی قربت کو واضح کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے میں صدرِ مملکت کو تاحیات گرفتاری اور مقدمات سے استثنیٰ دینے کی شق شامل ، پیپلز پارٹی کا مطالبہ منظور۔
ڈاکٹر محمد فیصل کی مقبولیت
سرکاری اور سفارتی حلقوں میں ڈاکٹر محمد فیصل کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے برطانیہ میں پاکستان کی نمائندگی انتہائی پیشہ ورانہ مہارت، وقار اور اعتماد کے ساتھ کی ہے، جس کے باعث وہ برطانوی حکام اور سفارتکاروں میں خاص احترام رکھتے ہیں۔خصوصاً پاکستان سے متعلق حالیہ کشیدہ حالات اور جنگی ماحول کے دوران ڈاکٹر فیصل نے بین الاقوامی ٹی وی چینلز، اخبارات اور میڈیا پلیٹ فارمز پر پاکستان کا مؤقف نہایت جرات مندی اور دلائل کے ساتھ پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: نجکاری کیلئے پی آئی اے،سٹیٹ لائف انشورنس سمیت 10 اداروں کی فہرست فائنل
پاکستان کا مؤقف پیش کرنا
انہوں نے دنیا کو یہ باور کرایا کہ پاکستان ایک پُرامن، باوقار، بہادر اور ثابت قدم قوم ہے جو امن اور استحکام کی خواہاں ہے۔ ان کے مؤثر انٹرویوز اور مدلل بیانات نے عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو اُجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
مستقبل کے امکانات
ان کی انہی سفارتی کاوشوں اور غیر معمولی خدمات کے باعث برطانیہ کے سرکاری حلقوں میں انہیں نمایاں پذیرائی اور عزت حاصل ہوئی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ ملاقات مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور سفارتی تعاون کو مزید فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔یہ افطار ڈنر نہ صرف مذہبی و ثقافتی ہم آہنگی کی علامت تھا بلکہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد اور مضبوط تعلقات کا عملی مظہر بھی ثابت ہوا۔








