اس وقت ملک کا کل قرضہ 148ارب ڈالر جبکہ اس میں حکومت کا قرضہ 103ارب ڈالر کے قریب ہے، گورنر اسٹیٹ بینک
اسٹیٹ بینک کے گورنر کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا ہے کہ یو اے ای دو ارب ڈالر کا قرضہ واپس نہیں مانگ رہا۔ پہلے وہ قرضہ سالانہ بنیادوں پر رول اوور کرتا تھا، اب ماہانہ بنیادوں پر رول اوور کر رہا ہے۔ پہلے ڈیبٹ سورسنگ چار ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی، جو اب کم ہوگئی ہے۔ اس وقت ملکی برآمدات دباؤ میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 100 دن جیل میں قید رہنے کے بعد وی لاگ بنانا بھول گیا تھا، معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی کا اعتراف
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں بریفنگ
یہ بات انہوں نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان، وزیر خزانہ، وزارت خزانہ کے حکام، اسٹیٹ بینک حکام اور دیگر موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل کی کیمبرین پیٹرول مقابلے کے شرکاء سے ملاقات، شاندار کارکردگی پر ٹیم کو مبارکباد
مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ
ایکسپریس نیوز کے مطابق، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ اس سال مہنگائی کی شرح پانچ سے سات فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ 2022ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ساڑھے سترہ ارب ڈالر تھا، جسے کم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے گئے۔ یہ 2022ء میں کی جی ڈی پی کے 4.7 فیصد تھا، جو 2023ء میں کم ہو کر جی ڈی پی کے ایک فیصد کے برابر ہوگیا۔ پچھلے سال دو ارب ڈالر کا سرپلس بھی ہوا، اور چودہ سال بعد کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوا۔ ابھی بھی کرنٹ اکاؤنٹ کے حوالے سے ہم کمفرٹ ایبل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر کا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اسمگل شدہ اور نان کسٹم پیڈ سامان فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
پہلے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 2.8 ارب ڈالر تھے، جو صرف دو ہفتے کی درآمد کے برابر تھے۔ ہم نے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی حکمت عملی اپنائی، اس وقت سولہ ارب ڈالر سے زائد ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: نیدرلینڈز کے خلاف نمیبیا کی بیٹنگ جاری
بیرونی قرضہ کی صورتحال
ان کا کہنا تھا کہ ملک کا بیرونی قرضہ سات سال کے دوران 55 ارب ڈالر سے بڑھ کر 103 ارب ڈالر ہوگیا تھا، اور پچھلے سال سے یہ قرضہ اسی سطح پر برقرار ہے۔ اس وقت ملک کا کل قرضہ 148 ارب ڈالر ہے، جس میں حکومت کا قرضہ تقریباً 103 ارب ڈالر ہے۔ جون 2026ء کے آخر تک زرمبادلہ کے ذخائر بڑھا کر 18 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، جبکہ دسمبر 2026ء تک یہ 20 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جشن عیدمیلادالنبی ﷺ کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام
ایکسپورٹ کی صورتحال
گورنر نے کہا کہ یو اے ای دو ارب ڈالر کا قرضہ واپس نہیں مانگ رہا، فرق صرف یہ ہے کہ پہلے یو اے ای کا قرضہ سالانہ بنیادوں پر رول اوور ہوتا تھا، اب ماہانہ بنیادوں پر رول اوور ہو رہا ہے۔ اس وقت ملکی برآمدات دباؤ میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خطے کا مستقل امن کشمیر کا مسئلہ حل کرنے سے جڑا ہے، بھارت مذاکرات کی میز پر آئے: راجہ پرویز اشرف
کمیٹی چیئرمین کا ردعمل
چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ آپ ایکسپورٹ کی اسکیمیں ختم کرتے جارہے ہیں، جس کی وجہ سے دباؤ میں ہیں۔
برآمدات کی کمی کی وجوہات
گورنر نے کہا کہ ایکسپورٹ ری فنانسنگ اسکیم ختم نہیں کی گئی، برآمدات نہ بڑھنے کی اور بھی وجوہات ہیں۔ فوڈ آئٹمز کی قیمت میں کمی بھی ایک سبب ہے، ایک طرف عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہیں اور دوسری جانب ڈیمانڈ بھی کم ہوئی ہے۔ اس سال برآمدات میں سات فیصد کمی ہوئی ہے، خاص طور پر چاول کی برآمد میں کمی سے بھی صورتحال متاثر ہوئی ہے۔ جب آپ آئی ایم ایف کے پروگرام میں ہوتے ہیں تو سبسڈی اور ری بیٹ اس طرح نہیں دے سکتے۔








