سب رخصت کرنے کے لیے آگے بڑھتے رہیں، سب کو اپنا حصہ ڈالنا ہوتا ہے، “بارات جائے کھوہ کھاتے میں”، وہ جب چاہے گھر پہنچے اس کا کوئی ملال نہیں

مصنف: ع۔غ۔ جانباز

قسط: 76

1956ء کا روشن دن

ستمبر 1956ء کا وہ ایک روشن دن آ پہنچا۔ گھر میں چاروں طرف ایک حرکت و شرکت کا سماں تھا۔ ہر کوئی اپنی اپنی تیاری میں مگن، گردو نواح کے عمومی ماحول سے لاپروا…… خودشناسی میں ڈوبا تمغۂ کارکردگی کا متمنی نظر آتا تھا۔ عزیز و اقارب کچھ تھوڑا رکھ رکھاؤ میں مبتلا…… اسی دوڑ میں شامل تھے۔ سادگی کا زمانہ تھا۔ بینڈ باجا ابھی ہم لوگوں کی شادیوں میں داخل نہیں ہوا تھا۔ لہٰذا باراتی اور دولہا نئے رنگا رنگ لباس زیب تن کیے بس کے ذریعے شاہ کوٹ پہنچے۔ وہاں سے 6 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کر کے کمال پور پہنچے۔ کیونکہ وہاں بس کے جانے کے لیے سڑک نہیں تھی۔

بارات کا استقبال

بارات کا شایانِ شان طریقے سے استقبال کے لیے گاؤں کے لوگ آگے بڑھ کر آئے اور دولہا، دولہا کے والد اور چیدہ چیدہ باراتیوں سے مصافحہ کرتے ہوئے…… بارات کو آگے لے گئے اور وہاں شامیانوں کے نیچے رکھی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ گاؤں میں بجلی نہیں تھی۔ پہلے مشروب (ٹھنڈے دودھ) سے بارات کی تواضع کی گئی اور پھر مولانا صاحب کو نکاح پڑھانے کے لیے کہا گیا۔ نکاح پڑھتے وقت بھی آدمی کی عجیب کیفیت ہوتی ہے۔ کبھی خود کو سنبھالا ہوا ہوتا ہے اور اُڑان نیچی ہوتی ہے اور دوسرے لمحے ڈھلان پر پھسل رہا ہوتا ہے۔ اور نکاح خواں کے سوا اور کوئی سہارا دینے والا نہیں ہوتا۔ ایجاب و قبول کے بعد طبیعت نارمل ہوئی اور پھر دل ایک لمبے سفر کی تیاری پر آمادہ ہوا۔

دودھ پلائی کی رسم

دودھ پلائی کی رسم، کھانے کے بلاوے پر اُس اُدھیڑ بن سے نکل کر پیٹ پوجا کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ ظاہر ہے شادی کا کھانا گھر والوں نے اپنی طرف سے پُوری کوشش سے ایک متوازن لنچ تیار کروایا ہوا تھا۔ سبھی نے اپنی اپنی بساط کے مطابق شکم پروری کی اور پھر دولہا کو "سلامی کے لیے" بلاوا آگیا۔ چنانچہ دو تین دوستوں کے ساتھ گھر کے اندر پہنچے اور کرسی پر دراز ہوگئے۔ گھر والوں میں سے ایک لڑکا کاپی سنبھالے "سلامی" دینے والوں کے نام کا اندراج کرتا جاتا تھا۔ کوئی ایک گھنٹہ اس سلامی کے چکر میں لگ گیا۔ ہم پھر بارات میں جا کر رخصتی کا انتظار کرنے لگے۔

دلھن کی رخصتی

کوئی 2 گھنٹے کے بعد دلہن کی رخصتی ہوئی لیکن اس میں بھی کئی مراحل آئے۔ رخصتی کے وقت ماں کا کلیجہ اُس کے مستقبل کے نشیب و فراز کے خدشات تلے دب کر کبھی شق ہونے کو ہے تو کبھی اُس کے درخشنداں کل کا نقشہ بنا کر شاداں و فرحاں…… ان دونوں صورتوں میں آپ آنکھوں سے رواں آنسوؤں کی لڑیوں میں خوشی کے اور اندیشوں کے آنسوؤں کو کبھی بھی کمپیوٹر سے علیحدہ کر کے نہیں دکھا سکتے۔ ماں کے بعد ایک بہن جو کافی سینئر تھی اور انڈیا میں میری ہمسائی تھی۔ اُس کا ملنا بھی ماں سے کچھ کم نہ تھا۔ بھائی بھی یکے بعد دیگرے دعاؤں اور پیار کے ساتھ رخصت کرنے کے لیے آگے بڑھتے رہے۔ پھر دوسرے عزیز و اقارب کی باری…… بڑا خاندان ہے…… سب کو اپنا حصّہ ڈالنا ہوتا ہے۔ "بارات جائے کُھوہ کھاتے میں" وہ جب چاہے گھر پہنچیں اس کا انہیں کوئی ملال نہیں۔

دلہن کی شخصیت

دلہن دراز قد، صحت مند، متوازن جسم ایک کھلا رنگ و روپ سلیقہ مند اور ایک دلیرانہ ذہن کے ساتھ اپنی شخصیت کو چار چاند لگاتے ہوئے گھریلو کام کاج میں ماہر……

گاؤں میں استقبال

اپنے گاؤں میں بارات کی آمد کی خبر پہنچتے ہی عورتیں اور مرد ہماری گذرگاہ کے دونوں طرف قطار بند ہوگئے۔ بُوڑھی امّاؤں نے بڑھ کر دلہن کو خوش آمدید کہتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے سر پر پیار دیا۔ گھر پہنچے تو مہمانوں کے بیٹھنے کا انتظام کیا ہوا تھا اور سب کی تواضع مشروبات سے کی گئی۔ اب دلہن دیکھنے کا مرحلہ آن پہنچا۔ گلی، محلہ اور دور دور گاؤں کی حدود سے عورتیں آتی گئیں اور اپنے اپنے تبصروں سے نوازتی گئیں۔ رات پڑی تو سب رشتہ دار بھی اپنے اپنے گھروں کو چل دئیے۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...