روسی صدر پیوٹن کا یورپی یونین کی منڈیوں کو گیس کی فراہمی روکنے کا عندیہ
ماسکو میں گیس کی فراہمی کا عندیہ
ماسکو (ویب ڈیسک) روسی صدر پیوٹن نے یورپی یونین کی منڈیوں کو گیس کی فراہمی روکنے کا عندیہ دیدیا جس کے بعد یورپی گیس کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوگیا۔ ابتدائی طور پر لوگ اس میں قطر وغیرہ کی طرف سے پیداوار روکنے کو بھی جوڑتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں: بینک سے سالانہ نقد رقم نکلوانے کی حد 10کروڑ روپے مقرر، ٹیکس چوری روکنے کیلئے ڈیٹا کے تبادلے کا فیصلہ
پوٹن کا بیان
تفصیل کے مطابق روسی صدر ولادی میر پوٹن نے ایک چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد روس یورپ کو گیس سپلائی روکنے پر غور کرسکتا ہے۔ یورپی یونین 2027 سے روسی گیس کی سپلائی محدود کرنا چاہتی ہے، ہم ابھی سے سپلائی روک سکتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر روسی گیس اور تیل پر پابندیاں لگیں تو روس کے لیے دیگر منڈیوں کا رخ کرنا فائدہ مند ہوسکتا ہے۔ ہم دوسری منڈیوں تک جاسکتے ہیں، یہ صرف وہ بات ہے جو میں سوچ رہا ہوں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی توانائی پر یورپ کا انحصار کم ہونے پر ماسکو چین سمیت دیگر منڈیوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 9 مئی کے پرتشدد واقعات سے متعلق دو اہم مقدمات راحت بیکری کے باہر جلاؤ گھیراؤ اور تھانہ شادمان جلاؤ گھیراؤ کے جیل ٹرائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا
سوشل میڈیا پر خبر کی بازگشت
???? BREAKING:
???????????????? Putin suggests Russia may stop supplying gas to EU markets. pic.twitter.com/xEi1ubHQTE https://t.co/YGdEQzzhUr
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) March 4, 2026
یورپی قیمتوں میں اضافہ
ادھر یورپ میں گیس کی بینچ مارک ڈچ اور برطانوی تھوک قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا اور ڈچ TTF مارکیٹ میں فرنٹ-ماہ گیس کی قیمت 46.52 یورو فی MWh تک پہنچ گئی۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پانی کے راستے آسنائے ہرمز کے ذریعے ترسیل میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔








