امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ پر یومیہ ایک ارب ڈالر خرچ ہو رہا، رپورٹ
امریکہ اور ایران کی جنگ کی اقتصادی لاگت
واشنگٹن (ویب ڈیسک) ایران کے ساتھ جاری جنگ امریکہ کو یومیہ ایک ارب ڈالر (2 کھرب، 99 ارب، 7 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد) میں پڑ رہی ہے۔ دی اٹلانٹک میگزین سے منسلک امریکی صحافی نانسی یوسف نے ایکس پر اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پینٹاگون کے اندازوں کے مطابق امریکہ ایران کیخلاف جنگ پر یومیہ ایک ارب ڈالر خرچ کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قربانی کے لیے لائے گئے اونٹ نے شہری کا ہاتھ چبھا دیا
ٹرمپ کی انتخابی مہم کا وعدہ
اس ضمن میں ڈیلی ایکسپریس یو ایس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں "لامتناہی جنگوں" کی مخالفت کی تھی، لیکن اب ایک نئی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کا اندازہ ہے کہ ایران کے خلاف جنگ پر یومیہ ایک ارب ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ، پاکستان کے خلاف میچ سے قبل بھارت کا اہم کھلاڑی مبینہ طور پر زخمی ہو گیا
اعداد و شمار کی تصدیق
ڈیلی ایکسپریس یو ایس کے مطابق اگرچہ اس رپورٹ کی ابھی تک باقاعدہ تصدیق نہیں ہوئی، تاہم اس کے اعداد و شمار دیگر پالیسی اداروں اور بجٹ ماہرین کے اندازوں سے ملتے جلتے ہیں۔
جنگ کے اخراجات کا تخمینہ
غیر جانب دار پالیسی ادارے سنٹر فار امریکی پراگریس نے براون یونیورسٹی کی جنگی اخراجات نامی رپورٹ کی بنیاد پر اندازہ لگایا کہ 28 فروری سے 2 مارچ تک اخراجات 5 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔
دوسری جانب، پین وارتن بجٹ ماڈل کے ڈائریکٹر کینٹ اسمیٹرز نے فارچیون میگزین کو بتایا کہ جنگ کی لاگت کا تخمینہ 40 ارب ڈالر (براہِ راست بجٹ اخراجات کے کم از کم اندازے کے مطابق) سے لے کر 95 ارب ڈالر تک ہو سکتا ہے۔ ماہرین بجٹ کے مطابق چونکہ پی ڈبلیو بی ایم زیادہ خطرے کے امکان کو مدنظر رکھتا ہے، اس لیے امکان ہے کہ اس جنگ سے تقریباً 65 ارب ڈالر کا بوجھ امریکی ٹیکس دہندگان پر پڑے گا۔








