بیواؤں اور یتیم بچوں کے لیے ’وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ
پنجاب میں رحمت کارڈ کا اجراء
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں پہلی بار وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بیواؤں اور ان کے یتیم بچوں کی سرکاری کفالت کے لیے ایک شفاف ڈیجیٹل سسٹم تیار کر لیا ہے۔ نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اس اقدام کے تحت پنجاب میں بیواؤں اور یتیم بچوں کے لیے 'وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ' متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ رواں ماہ سعودی عرب میں کس سے ملنے والے ہیں؟
مالی امداد کا اعلان
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے بیواؤں اور ماں باپ کی شفقت سے محروم بچوں کے لیے 'رحمت کارڈ' کی منظوری دے دی ہے، اس پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں کو ایک لاکھ روپے تک براہِ راست مالی امداد فراہم کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن، 17 سرکاری اہلکار گرفتار
پہلے مرحلے کی تفصیلات
وزیر اعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ پہلے مرحلے میں 50 ہزار سے زائد بے آسرا گھرانوں کی معاشی ڈھال بنے گا جبکہ اس منصوبے کا باقاعدہ آغاز عید کے فوراً بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ رینجرز نے نان کسٹم پیڈ مختلف اقسام کے 750 اسمارٹ فونز اور 61 ٹیبلٹس کی اسمگلنگ ناکام بنا دی، 2 ملزم گرفتار
معلوماتی ذرائع
اس پروگرام کے تحت بیوہ خواتین کو ایک لاکھ روپے اور یتیم بچوں کو 25،25 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ کے لیے موبائل ایپلی کیشن، ویب پورٹل، کال سینٹر اور آفس آف زکوٰۃ کے ذریعے رجوع کیا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: 8ویں جماعت کی طالبہ کی 40 سالہ شخص سے شادی
صوبائی معاون خصوصی کی بریفنگ
صوبائی معاون خصوصی برائے عشر و زکوٰۃ راشد نصر اللہ نے وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ پراجیکٹ پر تفصیلی بریفنگ دی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی کوہ پیما سرباز خان نے نئی تاریخ رقم کی
وزیر اعلیٰ کی گفتگو
اس موقع پر وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب میں بیوہ اب محتاج نہیں بلکہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ بیوہ کو خیرات نہیں بلکہ باوقار حق ملے، پنجاب کے وسائل پر ہر فرد کا پورا حق ہے اور حقدار تک حق پہنچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
خود روزگار کے مواقع
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ کے ذریعے بیوہ خواتین کو خود روزگار کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں۔ مریم نواز نے مزید کہا کہ پنجاب ایسا صوبہ ہے جہاں ہر فرد کا خیال رکھا جاتا ہے اور اس پروگرام کے ذریعے بیوہ خواتین اور بچے مالی خود مختاری کے ساتھ باوقار زندگی گزار سکیں گے۔








