حسین شہید سہروردی کے پہلے دورۂ چین سے دوستی کا آغاز ہوا، چو این لائی نے پاکستان کا جوابی دورہ کیا، اس عشرے کا دوسرا اہم کام اقتصادی منصوبہ بندی تھا۔

مصنف کی معلومات

مصنف: رانامیر احمد خاں
قسط: 326

یہ بھی پڑھیں: انسٹاگرام پر شوہر کو طلاق دینے والی دبئی کی شہزادی شیخہ مہرہ نے امریکی ریپر فرنچ مونٹانا سے منگنی کرلی

پاکستان کی سیاسی تاریخ (1951958)

1951ء میں شہیدِ ملت لیاقت علی خاں کے قتل سے لے کر 1958ء میں ایوبی مارشل لاء کے نفاذ تک، سات سالوں میں پاکستان میں سات وزرائے اعظم کی تبدیلی ہوئی۔ بھارت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اس پر طنز کیا کہ ”پاکستان میں جتنے وزرائے اعظم تبدیل ہوتے ہیں، اتنے میں اپنے تہبند بھی تبدیل نہیں کرتا۔“ مگر اس دور میں کسی بھی وزیر اعظم کی دیانتداری پر شک نہیں کیا گیا۔ حکمران اقتدار کے لئے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے، جبکہ ان کی دیانتداری بے شک تھی۔

یہ بھی پڑھیں: قصور؛ کمیٹی کی رقم لینے آئی خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی، مرکزی ملزم گرفتار۔

سیاسی عدم استحکام

سیاسی طور پر یہ دور عدم استحکام کا شکار تھا۔ مجلس احرار، جو اس وقت کی ایک مذہبی سیاسی جماعت تھی، کی قیادت میں احمدیہ فرقہ کے خلاف 1953ء میں تحریک نے ملک کے تمام شہروں میں بے چینی اور امن و امان کے مسائل پیدا کیے۔ صورت حال کنٹرول کرنے کے لئے دفعہ 144 اور کرفیو نافذ کیا گیا، لیکن یہ ناکام ثابت ہوا۔ آخرکار، فوج کو جنرل اعظم خان کی سربراہی میں لاہور میں مارشل لاء نافذ کرنا پڑا۔ اس تحریک کے نتیجے میں میاں ممتاز محمد خاں دولتانہ کو پنجاب کی وزارت اعظمیٰ چھوڑنی پڑی۔

یہ بھی پڑھیں: بعض وکلاء نے 2007 کی تحریک کامیاب ہونے کے بعد اس کا ناجائز فائدہ اٹھایا: احسن بھون

تحریک کے محرکات

اس تحریک کے پس پردہ کیا محرکات تھے؟ کیا وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو کمزور کرنا مقصد تھا یا کچھ اور؟ مجھے کوئی سرکاری تحقیقی رپورٹ نظر نہیں آئی۔ اسی طرح 1951ء میں پاکستان کے پہلے مقبول وزیراعظم لیاقت علی خاں کے قتل کی سازش میں کون شامل تھا؟ آج تک یہ حقائق مشکوک ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایک سال میں گندم کی پیداوار میں 29 لاکھ ٹن کی کمی

پاکستان چین تعلقات

1955ء میں وزیر اعظم حسین شہید سہروردی کے پہلے دورہ چین سے پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کا آغاز ہوا۔ چین کے وزیر اعظم چو این لائی نے بھی پاکستان کا دورہ کیا۔ اس دہائی میں پاکستان میں اقتصادی منصوبہ بندی کا آغاز بھی ہوا، جس کے تحت 1955ء سے 1960ء تک پہلے پانچ سالہ اقتصادی منصوبے کو کامیابی سے نافذ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے رویت کمیٹی کا اجلاس 18 فروری کو طلب

امریکی دورہ اور دفاعی تعلقات

پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خاں کا 1950ء میں امریکی دورہ بھی تاریخی تھا، جس کے نتیجے میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان دفاعی تعلقات مستحکم ہوئے۔ پاکستان، ایران اور ترکی نے امریکی بلاک کے تحت سیٹو اور سینٹو جیسے معاہدوں میں شمولیت اختیار کی۔

غیر جانبدار خارجہ پالیسی

پاکستان کو کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کی بجائے غیر جانبدار رہنا چاہئے تھا۔ آزاد خارجہ پالیسی اپنا کر، مختلف ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنا چاہیے تھے۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب ''بک ہوم'' نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...