ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل جنگ کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں تقریباً 200 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں، یونیسیف
بچوں کی ہلاکتوں کا悲ناک احوال
نیویارک(ڈیلی پاکستان آن لائن) اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں تقریباً 200 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خطے کے ڈائنامکس تبدیل، ایران عالمی اقتصادی دباؤ بڑھانے کی پالیسی کی طرف جاتا نظر آرہا ہے، اگلہ ممکنہ ہدف کیا ہو گا؟ الجزیرہ کا تجزیہ
مختلف ممالک میں بچوں کی ہلاکت
یونیسیف کے مطابق جنگ کے دوران ایران میں کم از کم 181 بچے جاں بحق جبکہ لبنان میں 7 بچے جان کی بازی ہار گئے، حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل میں بھی 3 بچے جاں بحق ہوئے جبکہ کویت میں ایک بچہ جاں بحق ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا سے بھاری پیسہ کمانے والے ایف بی آر کے ریڈار پر آگئے، تمام انفلوئنسرز، کنٹنٹ کریٹرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ
اسکولوں اور اسپتالوں پر حملے
یونیسیف کا کہنا ہے کہ ایران کے دیگر اسکولوں پر حملوں میں مزید 12 بچوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں، ایران میں کم از کم 20 اسکول اور 10 اسپتال حملوں میں متاثر ہوئے ہیں۔ مناب میں شجرہ طیبہ گرلز پرائمری اسکول پر حملے میں 168 طالبات جاں بحق ہوئیں۔ حملے کے وقت اسکول میں کلاسز جاری تھیں، جاں بحق ہونے والی طالبات کی عمر 7 سے 12 سال کے درمیان تھی۔
بچوں پر جنگ کے اثرات
ادارے کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے پہلے ہی بچوں پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔ بچے جنگیں شروع نہیں کرتے لیکن وہ اس کی ناقابل قبول حد تک بھاری قیمت ادا کرتے ہیں۔








