خیبر پختونخوا حکومت کا وادیٔ پشاور میں وفاق کے تعاون سے ٹرین چلانے کا فیصلہ
پشاور میں نئی ٹرین سروس کا آغاز
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبر پختون خوا حکومت نے وادیٔ پشاور میں وفاق کے تعاون سے ٹرین چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایتھوپیا کے آتش فشانی راکھ کے بادل پاکستانی فضائی حدود میں داخل
پشاور ویلی ریلوے منصوبہ
پشاور میں چیف سیکریٹری خیبر پختون خوا نے سیکریٹری اور چیئرمین ریلویز کو خط ارسال کیا ہے، مجوزہ ٹرین منصوبے کا نام "پشاور ویلی ریلوے" رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عدالت میں عمران خان کی کوئی میڈیکل رپورٹ پیش نہیں کی گئی، بس ایک ڈاکٹر کی رائے تھی جو پمز کا انچارج ہے،بابر اعوان
منصوبے کے فوائد
خیبر پختون خوا کے سیکریٹری محکمۂ ٹرانسپورٹ محمد زبیر نے "جیو نیوز" سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ منصوبہ گیم چینجر ہو گا۔ پہلی مرتبہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں مل کر کام کریں گی، جس سے کے پی حکومت کو انفرااسٹرکچر کی تعمیر میں بچت ہوگی۔ منصوبے سے ریلوے کا بزنس بڑھے گا اور آمدن بھی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں پہلی آرٹیفیشل انٹیلی جنس بیسڈ ڈرائیونگ ٹیسٹ کار تیار کرلی گئی
منصوبے کی تفصیلات
خط میں کہا گیا ہے کہ کے پی حکومت ریلویز انفرااسٹرکچر پر ریل کار اور ڈیزل ملٹی پل یونٹس چلانے پر کام کر رہی ہے۔ منصوبے کی پیشگی فزیبلٹی اسٹڈی پر زمین پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 62 کلومیٹر پر مشتمل پشاور-نوشہرہ-جہانگیرہ ریلوے سکیشن پر کام ہو گا جبکہ دوسرے مرحلے میں 65 کلومیٹر نوشہرہ-مردان-درگئی ریلوے سیکشن پر کام کیا جائے گا، اس کے علاوہ 27 کلو میٹر مردان-چارسدہ سیکشن اور 18 کلو میٹر پشاور-جمرود سیکشن اور بعد میں 60 کلو میٹر پر مشتمل کوہاٹ-جنڈ ریلوے سیکشن پر بھی کام کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ہم ملاقات کر کے بانی پی ٹی آئی کو دیکھنا چاہتے ہیں لیکن علاج ترجیح ہے: علیمہ خان
اجلاس اور تعاون
خط میں کہا گیا ہے کہ کے پی حکومت اور ریلویز کے ایک اجلاس میں تعاون بڑھانے پر غور کیا گیا تھا، جس میں مضافاتی ریل سروس کو اوپن ایکسیس فریم ورک کے تحت مرحلہ وار لاگو کیا جائے گا۔
تکنیکی ٹیم کی نامزدگی
خط میں استدعا کی گئی ہے کہ پاکستان ریلویز ورکنگ گروپ میں نمائندگی کے لیے تکنیکی ٹیم نامزد کرے۔








