متحدہ عرب امارات میں رہنے والی کاروباری اور سرمایہ کاروں نے امریکہ پر کڑی تنقید شروع کر دی ہے، بلومبرگ
کاروباری حلقوں کی تنقید
دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن )متحدہ عرب امارات میں رہنے والے کاروباری حلقے، بشمول معروف سرمایہ کاروں نے ایران جنگ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر امریکا پر کڑی تنقید شروع کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں بارش کا امکان
خلیج میں مالیاتی بحران
امریکی جریدے بلوم برگ کے مطابق یہ تنقید امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے جواب میں ایران کے حملوں سے خلیج کے مالیاتی بازار اور معیشت کے متاثر ہونے پر سامنے آرہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریاض میں عرب رہنماؤں کا اجلاس: ٹرمپ کی واپسی سے امید اور غیر یقینی کے درمیان جھولتا مشرقِ وسطیٰ
استحکام کی متاثرہ صورت حال
صورتِ حال نے خلیج کے استحکام کی پوزیشن متاثر کر دی ہے جو عالمی سرمایہ کاروں کے لیے انتہائی اہم تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کے قریبی ساتھیوں کا کردار مشکوک ہے، بشریٰ بی بی کی بہن کا بیان
معاشی دباؤ اور سپلائی چین
اخبار نے مزید لکھا کہ دبئی اور ابو ظبی میں مختلف شعبے شدید معاشی دباؤ میں ہیں، سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ جنگ اگر ایک ماہ سے زیادہ جاری رہی تو کمپنیوں کو پیداوار اور خدمات کے حوالے سے مشکل فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کا موقف
امریکی جریدے کے مطابق ایران کے حملوں میں سب سے زیادہ نشانہ بننے والا متحدہ عرب امارات ٹرمپ کا قریبی اتحادی رہا ہے اور اس نے امریکا میں ایک اعشاریہ 4 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہوا ہے۔








