ایرانی صدر کے پڑوسی ممالک پر حملے روکنے کے اعلان کے باوجود بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات میں زور دار دھماکوں کی آوازیں
خلیجی خطے میں کشیدگی
دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) خلیجی خطے میں ہفتے کی شام ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی جب بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ یہ واقعات اس وقت پیش آئے جب اس سے چند گھنٹے قبل ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے عندیہ دیا تھا کہ خلیجی ممالک میں حملے روک دیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ سے سینیٹ کی خالی نشست پر پیپلز پارٹی کے وقار مہدی کامیاب
دھماکوں کی تفصیلات
عینی شاہدین کے مطابق بحرین میں کئی زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ دھماکے میزائلوں کے زمین پر گرنے سے ہوئے یا فضائی دفاعی نظام کی جانب سے میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کے نتیجے میں ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: بیٹل ایکس پولو کپ 2025: ڈائمنڈ پینٹس/ڈن کی سنسنی خیز جیت، بلوچستان نے بھی میدان مار لیا
ایران کا دعویٰ
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نے دعویٰ کیا کہ بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر بڑے پیمانے پر دھماکے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی ڈی چوک پر لاشیں گرانے آ رہی ہے؛ فیصل واوڈا
قطر اور متحدہ عرب امارات میں صورتحال
دوسری جانب قطر میں موجود سی این این کے عملے نے بھی کئی دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں بھی کم از کم تین زور دار دھماکوں کی آوازیں رپورٹ کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: علی لاریجانی کی شہادت پر کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما میرواعظ عمر فاروق کا بیان بھی آ گیا
متحدہ عرب امارات کی حکومتی ردعمل
متحدہ عرب امارات کی نیشنل سکیورٹی کونسل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام اس وقت میزائل خطرے کا جواب دے رہا ہے اور شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ محفوظ مقامات پر رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شاہین آفریدی کا محمد رضوان کی کپتانی پر رد عمل
ایرانی صدر کا بیان
یاد رہے کہ اس سے قبل ہفتے کے روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خلیجی عرب ممالک سے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں کا ہدف امریکی فوجی اڈے ہیں اور ایران اپنے پڑوسی ممالک پر حملے بند کر دے گا، بشرطیکہ اس پر مزید حملے نہ کیے جائیں۔
وضاحتی بیان
بعد ازاں ایرانی صدر کے دفتر کی جانب سے وضاحتی بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ صدر کا پیغام واضح تھا کہ اگر خطے کے ممالک ایران پر امریکی حملوں میں تعاون نہیں کریں گے تو ایران بھی ان ممالک کو نشانہ نہیں بنائے گا۔








