ٹرمپ کے نیتن یاہو کو معاف کرنے کے مطالبے پر اسرائیلی صدر کا رد عمل آ گیا
ٹرمپ کے نیتن یاہو کو معاف کرنے کی درخواست
تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک) ٹرمپ کے نیتن یاہو کو معاف کرنے کے مطالبے پر اسرائیلی صدر کا رد عمل آ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بار ایسوسی ایشنز کو پیسوں سے لاد دیا گیا، بحالی کی تحریک زور پکڑنے لگی تو پنجاب کے وکلاء کو بھی حکومت نے ساتھ ملایا، صاحب اس مہم کے بھی انچارج تھے۔
اسرائیل کے صدر کا مؤقف
تفصیلات کے مطابق اسرائیل کے صدر آئیزیک ہرزوگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مطالبے پر کہ "وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو معاف کر دیا جائے تاکہ وہ ایران کے ساتھ جاری جنگ پر پوری توجہ دے سکیں" واضح الفاظ میں گفتگو کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے سکیورٹی سربراہ علی لاریجانی کی نماز جنازہ ادا، ہزاروں افراد کی شرکت
آزاد عدالتی نظام کی اہمیت
امریکی ٹی وی چینل "فاکس نیوز" کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں اسرائیل کے صدر آئیزیک ہرزوگ نے کہا کہ "اسرائیل ایک خودمختار ریاست ہے جہاں تمام فیصلے قانون کے مطابق کیے جاتے ہیں۔ ملک کا عدالتی نظام آزاد ہے اور قانونی معاملات اپنے طے شدہ طریقۂ کار کے تحت چلتے ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں گھروں میں استعمال ہونے والے آلات پاکستان کے مقابلے میں کم ہیں، گیلپ ڈیٹا اینالسز
ٹرمپ کا بیان
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں بیان دیا تھا کہ بنیامین نیتن یاہو کو قانونی مقدمات سے چھٹکارا ملنا چاہیے تاکہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگی صورتحال پر مکمل توجہ مرکوز کر سکیں۔
اسرائیلی نظامِ انصاف کی خودمختاری
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی صدر آئیزیک ہرزوگ کے بیان کو اسرائیلی نظامِ انصاف کی خودمختاری پر زور دینے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔








