قتل کے مجرم والد کو پھانسی دینا عدالتی سرپرستی میں اس کی بیٹی کو یتیم کرنے کے مترادف ہوگا‘‘سپریم کورٹ
اسلام آباد: سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ قتل کے مجرم والد کو پھانسی دینا عدالتی سرپرستی میں اس کی بیٹی کو یتیم کرنے کے مترادف ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے 10گنا بڑھانے کا فیصلہ
مجرم کی اپیل پر فیصلے کا اعلان
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق بیوی اور بیٹی کو قتل کرنے والے مجرم کی اپیل پر سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ جاری کردیا، جس میں عدالت نے بیوی بیٹی کے قتل کے مجرم محمد امین کی سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں ڈمپر اور واٹر ٹینکر کے بغیر ٹریکر چلنے پر پابندی لگا دی گئی
سزا کی تبدیلی
عدالت نے مجرم محمد امین کی سزا پھانسی سے عمر قید میں تبدیل کردی۔ یاد رہے کہ ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ نے ملزم کو 2 مرتبہ سزائے موت سنائی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں مذہبی مقامات کی ترقی و بحالی حکومتی سرپرستی میں یقینی بنائی جائے گی، وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی
عدالت کی وضاحت
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پھانسی کی سزا برقرار رکھ کر بیٹی انسا امین کو یتیم نہیں کر سکتے۔ جب ملزم کم عمر بچوں کا واحد زندہ والد یا والدہ ہو تو سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنا انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے صاحبزادے پاکستان نہیں جا رہے، صحافی اظہر جاوید کا دعویٰ
ریاست کی ذمہ داری
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنا جرم کو معاف کرنا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ریاست کسی بچے کی مکمل بے سہارگی کی وجہ نہ بنے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعرات) کا دن کیسا رہے گا ؟
جسٹس اشتیاق ابراہیم کا نکتہ نظر
جسٹس اشتیاق ابراہیم کے تحریر کردہ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم والد کو پھانسی دینا عدالتی سرپرستی میں اس کی بیٹی کو یتیم کرنے کے مترادف ہوگا۔ اقوام متحدہ کنونشن کے تحت بچوں کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھنا ریاستی ذمہ داری ہے۔ جب وارث مقتول کا براہ راست وارث ہو تو دفعہ 306 کے تحت قصاص نافذ نہیں ہو سکتا۔ مجرم اپنی 15 سالہ انسا امین بیٹی کا واحد بچ جانے والا سہارا ہے۔
مجرم کی جرم کی تفصیلات
واضح رہے کہ مجرم محمد امین نے اپریل 2021 کو وہاڑی میں اپنی اہلیہ اور بیٹی کو خنجر کے وار سے قتل کیا تھا۔ مجرم کا وقوعہ سے ایک روز قبل اپنی اہلیہ اور بچوں سے زرعی اراضی کی فروخت پر جھگڑا ہوا تھا۔ مجرم نے بیوی پر 21 اور بیٹی پر 8 وار کیے جب کہ دوسری بیٹی کو زخمی کیا تھا。








