این پی سی نمائندہ کا پاکستان اور چین کے زرعی تعاون کو مضبوط کرنے پر زور
زرعی تعاون میں مزید گہرائی
نان ننگ (شِنہوا): نیشنل پیپلز کانگریس (این پی سی) کی نمائندہ لیاؤ یوینگ نے چین اور پاکستان کے درمیان زرعی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لئے بھینسوں کی صنعت میں تبادلوں کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آمنہ شیخ اور محب مرزا کی علیحدگی کیوں ہوئی؟ اداکارہ کا انکشاف
تبادلے کا عمل
چینی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور گوانگ شی ژوانگ خود مختار علاقے کے ماتحت بفیلو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی سربراہ لیاؤ نے کہا کہ ہم ہر سال سیکھنے کے مقاصد کے لئے پاکستانی تحقیقی اداروں کے ساتھ عملے کا تبادلہ کرتے ہیں، جس سے ٹیلنٹ کی نشوونما ہوتی ہے اور چین اور پاکستان کے درمیان بھینسوں کی صنعت میں تعاون کو فروغ ملتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہم ان تبادلوں اور تعاون کو مزید وسعت دیں گے اور مزید سائنسی تحقیق اور منصوبوں کو فروغ دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: نوشہرہ میں زہریلی شراپ پینے سے 6 افراد ہلاک، 9 کی حالت غیر
بھینسوں کی صنعت کا کردار
بھینسوں کی صنعت گوانگ شی کی مخصوص زراعت کا ایک اہم جزو اور پاک چین زرعی تعاون کا ایک کلیدی شعبہ ہے۔ حالیہ برسوں میں، پاک چین جوائنٹ ریسرچ سینٹر فار بفیلو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں فریقوں نے اہم نتائج حاصل کئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: احسن اقبال کی مولانا فضل الرحمان سے اہم ملاقات، غزہ پیس معاہدے سے متعلق گفتگو
نئی تکنیکوں کا اطلاق
چینی اور پاکستانی تکنیکی ماہرین نے ٹیم ورک کے ذریعے پاکستان میں پہلی بار ان ویٹرو جنین کی پیداوار، منجمد کرنے کی تکنیک، منتقلی اور جینوم پر مبنی افزائش نسل جیسی بنیادی ٹیکنالوجیز متعارف کرائی ہیں۔ اس سے ڈیری بھینسوں کی افزائش نسل کی جدید تکنیکوں میں موجود خلا کو پر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میرب علی سے بریک اپ کے بعد عاصم اظہر کے کنسرٹ میں ہانیہ عامر کی شرکت سے ایک بار پھر دونوں کے تعلقات ٹھیک ہونے کی چہ مگوئیاں
اجتماعی کارکردگی
جون 2024 میں، چین نے پاکستان سے 5 ہزار نیلی راوی بھینسوں کے جنین درآمد کئے۔ اپریل 2025 میں، گوانگ شی کے شہر نان ننگ میں واقع پاک چین ڈیری بفیلو بریڈنگ ڈیمانسٹریشن فارم میں ان جنین سے کامیابی کے ساتھ بچھڑے پیدا ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر میں خواتین مردوں کے مقابلے میں لمبی عمر پاتی ہیں: اقوام متحدہ
سائنسی تبادلوں میں فروغ
لیاؤ برسوں سے پاک چین زرعی تعاون کو گہرا کرنے کی وکالت کر رہی ہیں۔ انہوں نے بھینسوں کی صنعت کو ایک سنگ میل کے طور پر استعمال کرتے ہوئے دوطرفہ سائنسی تبادلوں اور بیجوں کی صنعت میں مشترکہ اختراع کو مضبوط کرنے کی تجویز دی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: ڈیفنس تھانے میں قانون کے طلبہ کا پولیس اہلکاروں پر تشدد، پولیس کی فائرنگ سے 4 زخمی
مستقبل کی تجاویز
انہوں نے تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے لئے پاک چین جوائنٹ ریسرچ سنٹر کی حمایت جاری رکھنے، بیج کی صنعت میں اختراع، جنین ٹیکنالوجی اور بیماریوں سے بچاؤ کے لئے مشترکہ کوششوں کو فروغ دینے کی تجویز دی۔
اقتصادی راہداری میں اہمیت
لیاؤ نے اس بات پر زور دیا کہ زرعی تعاون چین پاکستان اقتصادی راہداری کا ایک اہم حصہ ہے۔ بھینسوں کی صنعت اپنی ٹھوس بنیاد کے ساتھ وسیع صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ ریاستی حکام بھینسوں کے شعبے میں سائنسی اور صنعتی تعاون کو گہرا کرنے کے لئے تعاون میں اضافہ جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ممالک میں اعلیٰ معیار کی زرعی ترقی اور لوگوں کی معیشت میں بہتری لائی جا سکے۔








