خود پر ترس آ رہا تھا ہم بے بس نظام میں دھنستے جا رہے ہیں، کیسے قابلیت اور اہلیت کا نظام رائج کر سکتے ہیں؟ غریب ہونا جرم ہے اور قابلیت بھی جرم ہی ہے۔

مضمون کا تعارف

مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 464

یہ بھی پڑھیں: زیارت میں سیاحتی مقام سے اسسٹنٹ کمشنر اور بیٹے کا اغوا

انٹرویو کی تیاری

اگلے روز میں دفتر سے انٹرویو لینے کے لئے جانے لگا تو کمشنر کے پی اے رانا یعقوب میرے دفتر آئے اور ایک ٹائپ شدہ کاغذ مجھے تھما دیا۔ میں نے کھول کر دیکھا تو اس میں پندرہ بیس بچوں کے نام تھے۔ میں نے پوچھا؛ "رانا صاحب! یہ کیا؟" کہنے لگے؛ "سر! یہ ان بچوں کی فہرست ہے جنہوں نے انٹر ویو کے لئے حاضر ہونا ہے اور انہیں داخلہ بھی ملنا ہے۔" میں حیران ہو اور پوچھا؛ "مطلب؟" کہنے لگے؛ "یہ بچے سفارشی ہیں۔" میں نے فہرست جیب میں ڈالی اور سکول چلا گیا۔ راستے میں سوچتا رہا کہ ہم تو بچپن سے ہی سفارش بچوں کے خون میں شامل کرنے کا ٹیکہ لگانے لگے ہیں۔ سچی بات ہے کہ مجھے خود پر ترس آ رہا تھا کہ ہم بے بس نظام میں دھنستے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا قطر کے وزیر مملکت ڈاکٹر محمد بن عبدالعزیز الخلیفی سے ٹیلیفونک رابطہ

سکول میں ملاقات

خیر وہاں پہنچا، پرنسپل صاحب سے ملاقات ہوئی ان سے پہلے سے بھی شناسائی تھی۔ انٹر ویو کمیٹی کے دوسرے رکن بورڈ کے ایک سرکردہ بلکہ سکول کے بانی اراکین میں سے ایک "شیخ منصور" تھے۔ ہم نے سلام دعا کی اور یہ فہرست ٹیلی کی گئی۔ روزانہ تقریباً بارہ پندرہ بچے سفارش پر داخل ہوتے تھے۔ 4 دنوں میں صرف ایک سفارشی بچے کے داخلے پر میں رضا مند نہ ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سلامتی کونسل مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی کرے، بین الاقوامی امن کیلئے ایرانی حملےسنگین خطرہ ہیں: اماراتی مندوب

میرٹ کے دعوے

داخلے ختم ہوئے تو میرٹ کا رونا کمشنر پھر سے رونے لگے۔ ایک روز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسڑی گوجرانوالہ کی غیر رسمی سی میٹنگ ہو رہی تھی۔ موضوع ڈویثرنل پبلک سکول کے داخلے تھا۔ کمشنر بڑے دعویٰ سے کہہ رہے تھے کہ ہم نے داخلے میرٹ پر کئے اور میرے اے ڈی سی خالد وٹو کی بیٹی بھی میرٹ پر نہ آنے کی وجہ سے داخلے سے محروم رہی تھی جبکہ اصل بات یہ تھی کہ خالد اپنی بیٹی وہاں داخل ہی نہیں کرانا چاہتا تھا۔ مجھ سے نہ رہا گیا۔ میں نے کمشنر کے مخاطب کرکے کہا؛ "سر! برا نہ مانئے گا۔ کس میرٹ کی بات ہو رہی ہے؟ ہم تو نرسری کلاس میں داخلے کے لئے کمشنر کی پرچی جاری کرتے ہیں اور پہلے دن سے ہی بچے کی تربیت کر رہے ہیں کہ تعلقات اور پیسہ ہی میرٹ ہے۔ یہ تمھیں ہر اس جگہ پہنچا دیں گے جہاں جانے کے تم مستحق بھی نہ ہو۔"

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان حکومت کا نو عمر قیدیوں کے لیے علیحدہ جیل بنانے کا فیصلہ

نئے سکول کے قیام کی کوشش

کمشنر نے مختلف تحصیلوں میں بھی معیاری تعلیم کے لئے ڈی پی ایس سکول کی برانچیں قائم کرنے کی بھر پور کوشش کی۔ لالہ موسیٰ، ڈسکہ، وزیر آباد، نوشہرہ ورکاں میں یہ سکول قائم بھی ہوئے۔ چھوٹے شہروں میں تعلیم کے فروغ اور معیاری تعلیمی اداروں کا قیام کمشنر کی شاندار کاوش اور ان شہروں کے بچوں کے لئے اچھی تعلیم حاصل کرنے کا بہترین موقع تھی۔

نوٹ

یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...