پاکستان اور آئی ایم ایف میں اسٹاف لیول معاہدہ نہ ہوسکا، مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان
پاکستان اور آئی ایم ایف مذاکرات
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پندرہ روزہ ورچوئل مذاکرات کے باوجود سٹاف لیول معاہدہ نہ ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیں: قبضہ مافیا کا باب ہمیشہ کیلئے بند، نجی اراضی پر قبضے کا فیصلہ 90 دن میں ہوگا، ڈِسپیوٹ ریزولیشن کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ
آئی ایم ایف کا اعلامیہ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق آئی ایم ایف نے اپنے اعلامیہ میں تصدیق کی کہ پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے ای ایف ایف پروگرام کے تیسرے جائزے اور آر ایس ایف کے دوسرے جائزے پر بات چیت کے باوجود سٹاف لیول معاہدہ طے نہیں ہو سکا، تاہم اس دوران خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے اور مذاکرات جاری رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: مندر بادشاہوں کی موت کے بعد ان کی آخری رسومات کیلئے بنائے جاتے تھے، بادشاہ کی موت کے فوراً بعد قبیلے کے لوگ ان کا قبضہ سنبھال لیتے۔
سخت مانیٹری پالیسی پر زور
اعلامیہ کے مطابق آئی ایم ایف وفد نے مہنگائی کو قابو میں رکھنے کیلئے سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے پر بھی زور دیا، پروگرام پر عمل درآمد مجموعی طور پر وعدوں کےمطابق رہا، مالیاتی خسارہ کم کرنے اور پبلک فنانس مضبوط بنانے پر بات چیت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرینز ایبک پولو کپ 2024ء کے تیسرے روز دو اہم مقابلے
مذاکرات کی تفصیلات
آئی ایم ایف مشن کی سربراہ ایوا پیٹرووا نے کہا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف وفد کے درمیان 25 فروری سے گیارہ مارچ تک ورچوئل مذاکرات ہوئے، پاکستانی وفد سے توانائی شعبے میں اصلاحات اور کارکردگی بہتر بنانے پر بھی مذاکرات ہوئے، سماجی تحفظ، صحت اور تعلیم کے اخراجات بڑھانے پر معاشی ٹیم سے گفتگو ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: منڈی بہاؤالدین میں ایچ پی وی ویکسین لگانے پر 15 خواتین نے لیڈی ہیلتھ ورکر کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، مقدمہ درج
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات
اعلامیہ کے مطابق حکام کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے اصلاحاتی اقدامات میں پیشرفت اور مشرق وسطیٰ کے تنازع کے پاکستانی معیشت پر اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کرتارپور کے قریب دریائے راوی کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے پانی گردوارے میں داخل
آنے والے مذاکرات
آئی ایم ایف کے اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور مالی دباؤ پر تشویش ہے، آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان مزید مذاکرات آئندہ چند روز تک جاری رہیں گے۔
مالی امداد کے امکانات
خیال رہے کہ اگر یہ جائزہ کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو پاکستان ای ایف ایف کے تحت تقریباً 1 ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت تقریباً 20 کروڑ ملین ڈالر اپریل کے آخر تک ملنے کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔








