پیکٹا کی مؤثر قیادت کی روشن مثال، صوبہ بھر میں گریڈ 8 کے سرکاری معیاری امتحانات کا تاریخی کامیاب انعقاد
پنجاب میں جماعت ہشتم کے امتحانات کا دوبارہ آغاز
لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب کریکولم، ٹریننگ اینڈ اسیسمنٹ اتھارٹی (PECTAA) نے صوبہ بھر میں جماعت ہشتم کے معیاری پبلک امتحانات کو کامیابی سے بحال کر کے پنجاب کے تعلیمی نظام میں معیار، احتساب اور شفافیت کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اکتوبر احتجاج کیس: عمران خان کی بہنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
امتحانات کا شیڈول اور شرکت
یہ ہمہ گیر امتحانی سرگرمی 9 مارچ 2026 کو شروع ہوئی اور 12 مارچ 2026 کو کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، جس میں پورے پنجاب سے تقریباً دس لاکھ طلبہ نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی رکشہ ڈرائیور کی ماہانہ آمدنی جان کر سوشل میڈیا صارفین حیران
پیکٹا کے اقدامات
ماہرینِ تعلیم کے مطابق پیکٹا کی جانب سے جماعت ہشتم کے معیاری امتحان کی بحالی ایک اہم اصلاحی اقدام ہے جس کا مقصد تعلیمی معیار کو مضبوط بنانا اور اسکولوں میں میرٹ پر مبنی جانچ کے نظام کو فروغ دینا ہے۔ یہ اقدام وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی سرپرستی اور صوبائی وزیر برائے اسکول ایجوکیشن رانا سکندر حیات کی نگرانی میں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: علیزے شاہ نوجوان اداکارہ عینا آصف کے حق میں بول پڑیں
امتحانی نظام کی تیاری
پیکٹا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید موسیٰ علی بخاری کی قیادت میں اس وسیع امتحانی عمل کو نہایت پیشہ ورانہ مہارت، شفافیت اور مؤثر انتظامی ہم آہنگی کے ساتھ انجام دیا گیا۔ منیجنگ ڈائریکٹر اکیڈمکس ڈاکٹر زبیدہ ضیاء نے امتحانات کی تعلیمی منصوبہ بندی، اسیسمنٹ ڈیزائن اور معیار کی یقین دہانی کے مجموعی فریم ورک کی نگرانی کی۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے نے لاہور سے باکو کے لیے براہِ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان کردیا
انتظامی عملہ اور مراکز
پورے پنجاب میں امتحانات کے انعقاد کے لیے 1,901 کلسترز اور 5,714 امتحانی مراکز قائم کیے گئے جن میں 26,047 اسکولوں نے حصہ لیا۔ امتحانات کے انتظام کے لیے 6,104 سپرنٹنڈنٹس اور 21,735 انویجیلیٹرز تعینات کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: سموگ کے خاتمے کیلئے کلائیمٹ ڈپلومیسی کی تجویز پر اتفاق
تربیتی سیشنز
صوبہ بھر میں یکساں اور مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے پیکٹا نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز (DEAs) کے تحصیل فوکل پرسنز، سپرنٹنڈنٹس اور انویجیلیٹرز کے لیے جامع تربیتی سیشنز منعقد کیے۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلزپارٹی کے اعلیٰ سطح کے وفد کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات
ٹیکنالوجی کا استعمال
پیکٹا کے تحت منعقد ہونے والے ان امتحانات میں ٹیکنالوجی پر مبنی نہایت شفاف اسیسمنٹ نظام متعارف کرایا گیا۔ پہلی مرتبہ امتحانی عمل میں مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ای مارکنگ، QR کوڈ والے جوابی اسکرپٹس، اور موبائل ایپلیکیشنز کا استعمال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سوات میں کوچ گہری کھائی میں جا گری، 2 افراد جاں بحق
لائیو مانیٹرنگ ڈیش بورڈ
ایک اور نمایاں جدت کے طور پر پیکٹا نے امتحانی تاریخ میں پہلی مرتبہ لائیو ڈیجیٹل مانیٹرنگ ڈیش بورڈ تیار کیا اور اسے فعال بنایا۔ اس نظام کے ذریعے مرکزی کنٹرول رومز کو صوبہ بھر کے تمام امتحانی مراکز سے معلومات ملتی رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کی درخواست کردی
معاونت اور مانیٹرنگ
امتحانات کے انعقاد میں بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (BISEs) نے بھی معاونت فراہم کی۔ اس کے ساتھ، اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، پیکٹا اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کی مشترکہ مانیٹرنگ ٹیموں نے روزانہ 1,500 سے زائد امتحانی مراکز کا معائنہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی قازقستان کے ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال
تعلیمی جانچ کا نظام
جماعت ہشتم کے امتحانات کے ساتھ ساتھ پیکٹا نے 9 مارچ سے اسکول بیسڈ اسیسمنٹ (SBA) کا بھی بیک وقت انعقاد کیا، جس میں تقریباً 68 لاکھ طلبہ شامل ہوئے۔
عوامی اعتماد کی بحالی
ماہرین تعلیم، والدین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے پیکٹا کے اس شفاف اور ٹیکنالوجی سے مزین امتحانی نظام کو بے حد سراہا ہے اور اسے پنجاب کے اسکولی تعلیمی نظام میں عوامی اعتماد کی بحالی اور تعلیمی معیار میں بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔








