پی ٹی آئی کے 120 ارکان سے زبردستی پارٹی چھڑوائی گئی، متعدد افراد کا کوئی قصور نہیں تھا، شیر افضل مروت
شیر افضل مروت کی پی ٹی آئی سے نکالے جانے والے ارکان پر تنقید
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 120 ارکان سے زبردستی پارٹی چھڑوائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بس کے اندر قیامت کا سماں تھا، اگلی نشستوں پر بیٹھے لوگ سامنے ونڈ سکرین کے شیشے ٹوٹنے سے لہولہان ہوگئے،موقع ملا میں بھی کھڑکی سے باہر کود گیا۔
پارٹی کی صورتحال اور رہنما کی حیثیت
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ پارٹی سے نکالے گئے متعدد افراد کا کوئی قصور نہیں تھا بلکہ انہیں زبردستی الگ کیا گیا، جبکہ پارلیمانی کمیٹیوں کے بائیکاٹ کا بھی کوئی جواز نہیں بنتا۔ تقریباً 120 سے 130 افراد کو پارٹی سے جبراً نکالا گیا، حالانکہ ان افراد کی غلطی نہیں تھی۔ ان کے مطابق تحریک انصاف میں جب کسی رہنما کی نشست خالی ہوتی ہے تو نئے لوگوں کے لیے آگے آنے کا موقع پیدا ہو جاتا ہے اور اسی عمل کے نتیجے میں نئی قیادت سامنے آتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ ایران، اسرائیل تنازع پر اپنے مؤقف میں تبدیلی لاتے دکھائی دے رہے ہیں: برطانوی میڈیا کا دعویٰ
کمیٹیوں پر واپسی کے حوالے سے بیانات
تحریک انصاف کی قائمہ کمیٹیوں میں واپسی سے متعلق سوال کے جواب میں شیر افضل مروت نے کہا کہ کمیٹیوں کا بائیکاٹ مسائل کا حل نہیں، سیاست کا تقاضا ہے کہ پارلیمانی فورمز میں موجود رہ کر اپنا مؤقف پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں مختلف آوازیں ضرور ہیں مگر اصل توجہ عمران خان کے مؤقف پر ہونی چاہیے۔
عمران خان کی صحت اور سیاسی جدوجہد
انہوں نے مزید کہا کہ اگر سیاست دان گھروں میں بیٹھ جائیں تو عوام تک ان کی آواز نہیں پہنچ سکتی، اس لیے سیاسی جدوجہد جاری رکھنا ضروری ہے۔ میڈیکل بورڈ کی جانب سے عمران خان کے اہلِ خانہ کو معائنے کی اجازت دینا ایک مثبت پیش رفت ہے اور اگر بورڈ مزید سفارشات دیتا ہے تو وہ اس کا خیرمقدم کریں گے۔ اس سے قبل عمران خان کو شفا اسپتال لایا جا رہا تھا تو ان کی بہن نے کہا کہ اگر میں نہیں ہوں گی تو یہ نہیں ہوگا۔ جب تک پی ٹی آئی کو خاندان چھوڑے گا نہیں، پارٹی آزادانہ فیصلے نہیں کرسکتی نہ آگے بڑھ سکتی ہے۔








